پنجاب میں اسموگ کے تدارک کیلئے جدید واٹر اسپرنکلنگ مشینوں کے استعمال کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
لاہور:
انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (ای پی اے) پنجاب نے اسموگ کے تدارک کے لیے لاہور میں جدید واٹر اسپرنکلنگ مشینوں کے استعمال کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔
ای پی اے کے اس منصوبے کے تحت شہر کے مختلف مقامات پر 15 خصوصی مشینیں موجود ہوں گی جو فضائی آلودگی خصوصاً تعمیراتی سرگرمیوں اور صنعتی کلسٹرز کے اطراف پیدا ہونے والے دھوئیں اور گرد و غبار کم کرنے میں مدد دیں گی۔
ای پی اے کے ترجمان ساجد بشیر کے مطابق ہر مشین کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 12 ہزار لیٹر ہے اور یہ ایک گھنٹے میں اسپرنکلنگ کا سائیکل مکمل کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان مشینوں کو لاہور کے 15 ڈیزائن شدہ مقامات پر کھڑا کیا جائے گا اور جیسے ہی ٹیکنیکل کمیٹی کی جانب سے کسی علاقے میں ایئر کوالٹی انڈیکس بڑھنے کی اطلاع ملے گی وہاں فوری طور پر پانی کا اسپرے شروع کر دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ مشینوں کا تجرباتی بنیاد پر آپریشن کیا گیا ہے، شہر کی مختلف اہم شاہراہوں جن میں مین بلیوارڈ گلبرگ، فیروز پور روڈ، کینال روڈ، جیل روڈ اور سی بی ڈی کے علاقے شامل ہیں، وہاں بھی ان کی آزمائشی کارروائیاں کی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس موقع پر موبائل ایئر کوالٹی اسٹیشن کے ذریعے قبل اور بعد کے اعداد و شمار کا تقابلی تجزیہ بھی تیار کیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ 10 سے 15 دن کے اندر اسپرنکلنگ مشینوں کے عملی نتائج سامنے آ سکیں۔
ساجد بشیر کا کہنا تھا کہ ان مشینوں کو خاص طور پر انڈسٹریل کلسٹرز، کنسٹرکشن سائٹس اور دیگر زیادہ متاثرہ مقامات پر استعمال کیا جائے گا تاکہ اسموگ کے موسم میں شہریوں کو بہتر فضائی معیار فراہم کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ