کراچی، محرم الحرام کی تیاریاں، سیکیورٹی ہائی الرٹ، کمشنر و ڈپٹی کمشنر کا مشترکہ فیلڈ وزٹ
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
کمشنر کراچی نے جلوسوں کے روٹس، سیکیورٹی انتظامات اور سہولیات کی فراہمی کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ ادارے محرم کے دوران عزاداران کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے مربوط حکمت عملی کے تحت کام کریں۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ محرم الحرام کے سلسلے میں سیکیورٹی، صفائی اور سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کمشنر کراچی نے ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی اور دیگر متعلقہ حکام کے ہمراہ مختلف امام بارگاہوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انچولی کی معروف امام بارگاہ خیرالعمل اور الحسن امام بارگاہ کا خصوصی معائنہ کیا گیا، جہاں عزادار تنظیموں کے عہدیداران سے ملاقاتیں بھی کیں۔ دورے میں میونسپل کمشنر کے ایم سی افضال زیدی، تنظیم عزاداران کے سربراہ ایس ایم نقی اور دیگر متعلقہ افسران بھی شریک تھے۔ کمشنر کراچی نے جلوسوں کے روٹس، سیکیورٹی انتظامات اور سہولیات کی فراہمی کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ ادارے محرم کے دوران عزاداران کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے مربوط حکمت عملی کے تحت کام کریں۔
ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی طحہ سلیم نے سیکیورٹی پر مامور افسران کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر سیکیورٹی کو فول پروف بنایا جائے۔ انہوں نے امام بارگاہوں میں نصب کی گئی سبیلوں کا بھی معائنہ کیا اور ہدایت دی کہ پینے کے صاف پانی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صفائی ستھرائی اور دیگر شہری سہولیات کے حوالے سے اعلی معیار برقرار رکھا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے منتظمین سے ملاقات کے دوران مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ، ضلعی سطح پر تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے محرم الحرام کے احترام اور امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کے لیے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔