بلاول بھٹو زرداری نے فواد چوہدری کو احمق کیوں کہا ؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کو جواب دیتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور انہیں احمق کہتے ہوئے مخاطب کیا، لیکن ایسا کیوں ہوا؟ اس سوال کا پس منظر جاننے کے لیے ان کی پچھلی پوسٹس دیکھنا ناگزیر ہوں گی۔
سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کو جواب دیتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور انہیں احمق کہتے ہوئے مخاطب کیا، لیکن ایسا کیوں ہوا؟
یہ بھی پڑھیں:
گزشتہ روز سندھ طاس معاہدے پر ثالثی کی مستقل عدالت نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا کا معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کرنے اور ثالثی عدالت کے کردار کو محدود کرنے کا اقدام درست نہیں ہے۔
Sindhu pay hamla na manzoor.
— BilawalBhuttoZardari (@BBhuttoZardari) June 28, 2025
جمعے کو پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق حکومتِ پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے مستقل عدالت برائے انصاف کے تحت ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
اس پس منظر میں سابق وزیر خارجہ اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ثالثی کی مستقل عدالت کی اپنے فیصلے سے متعلق پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ’سندھو پر حملہ نامنظور‘ لکھا بلکہ وکٹری کا نشان یعنی ایموجی بھی پوسٹ کیا۔
مزید پڑھیں:
بلاول بھتو نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کا یک طرفہ فیصلہ بین الاقوامی قانون میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا، تاہم ان کی اس پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق وزیر قانون فواد چوہدری نے بلاول بھتو کی تصحیح کرنے کی کوشش کی۔
This an attack on Pakistan not on Sindh unless you have also joined Sindhu Daish under GM Syed family…. BB would never have made such statement… https://t.co/GSB8h2oRNF
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) June 28, 2025
فواد چوہدری کا مؤقف تھا کہ یہ حملہ یعنی بھارت کا یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کی معطلی، پاکستان پر ہے، سندھ پر نہیں۔ ’۔۔۔الاّ یہ کہ آپ بھی جی ایم سید کے خاندان کے تحت سندھو دیش میں شامل ہو چکے ہوں… بی بی (بینظیر بھٹو) کبھی ایسا بیان نہ دیتیں۔‘
You idiot.
Sindhu River is the Indus River. The Indus Valley civilization belongs to all of Pakistan.
“The word “Indus” is the Latinized version of Sindhu, brought into English via the Greek name “Indos” (Ἰνδός), which in turn was derived from the Persian pronunciation of… https://t.co/Z24GkkSKNv
— BilawalBhuttoZardari (@BBhuttoZardari) June 28, 2025
لفظ ’سندھو‘ کا اپنے انتخاب پر اس نوعیت کی تنقید بلاول بھٹو کو بہت گراں گزری اور انہوں نے فواد چوہدری کو جواب دیتے ہوئے انہیں ’احمق‘ یعنی idiot مخاطب کرتے ہوئے اپنے ’سندھو‘ کے انتخاب پر اصرار کیا، ان کا مؤقف تھا کہ سندھو دریا ہی دریائے سندھ ہے۔
’وادیٔ سندھ کی تہذیب پورے پاکستان کی مشترکہ وراثت ہے، انڈس دراصل سندھو کا لاطینی روپ ہے، جو انگریزی میں یونانی زبان کے ذریعے آیا، یونانیوں نے فارسی زبان سے سندھو کا تلفظ سنا وہ indos تھا جس سےindus بنا۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایکس بلاول بھٹو زرداری پلیٹ فارم سندھ طاس معاہدہ سندھو سندھو دیش سوشل میڈیا فواد چودھری
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایکس بلاول بھٹو زرداری پلیٹ فارم سندھ طاس معاہدہ سندھو سندھو دیش سوشل میڈیا فواد چودھری بلاول بھٹو زرداری سندھ طاس معاہدے فواد چوہدری کو کرتے ہوئے پلیٹ فارم
پڑھیں:
سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کا ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئی ہیں، بچیوں کو شہید کیا گیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔ جس طرح رمضان میں آیت اللہ علی خامنہ ای کو، ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں کو شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں، ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشا بڑھ گئی ہے۔ اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دور حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماؤں کی دعاؤں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کو ختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔ آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے فوجی اڈوں کو بند کیا۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔ آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔ وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام کا ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ تھر کے منصوبے سے تھر کے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شیئر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ سی پیک کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکول کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یو ٹی اور ڈاؤ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔ دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشاء اللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگا کر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایوس نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔