لاہور: پوتوں کی لڑائی چھڑوانے کے دوران فائرنگ سے 85 سالہ دادا جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
لاہور:
اکبری گیٹ کے علاقے محلہ نعمت گراں میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں دو پوتوں کے درمیان جھگڑا چھڑوانے کی کوشش کے دوران 85 سالہ دادا محمد ریاض فائرنگ کی زد میں آکر جان کی بازی ہار گئے۔
تفصیلات کے مطابق گلمان خان اور نعمان نامی دو بھائیوں کے درمیان کسی گھریلو تنازع پر جھگڑا ہوا۔ دادا محمد ریاض دونوں کے درمیان صلح کروانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اسی دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ فائرنگ سے محمد ریاض سمیت تین افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم محمد ریاض زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گئے۔
واقعے کے بعد دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے لاش کو مردہ خانے منتقل کر کے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ ایس پی سٹی ڈویژن نے ایس ایچ او اکبری گیٹ ہاشم رضا کو خصوصی ٹاسک سونپا، جس پر پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور سی سی ٹی وی کی مدد سے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والا آلہ قتل بھی برآمد کر لیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور دوسرے مفرور ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محمد ریاض
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔