بھارت سے جنگ جیتنے کے باوجود امن کی بات کرتے ہیں(بلاول بھٹو)
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
بھارت ہم سے7گنا بڑا ملک اوروسائل میں بھی زیادہ ہے، تاریخی شکست ہوئی
اسلام آباد پریس کلب دعوت پرشکرگزارہوں، میٹ دی پریس میں میڈیا سے گفتگو
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری نے کہا ہے کہ ہم جنگ جیتنے کے باوجود امن کی بات کرتے ہیں۔اسلام آباد پریس کلب میں ’میٹ دی پریس‘ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پریس کلب دعوت پرشکرگزارہوں، بھارت کیخلاف پاکستان کوتاریخی فتح حاصل ہوئی۔انہوں نے کہا کہ بھارت ہم سے7گنا بڑا ملک اوروسائل میں بھی زیادہ ہے، بھارت کوتاریخی شکست ہوئی، ہم نے انڈیا کو سفارتی سطح پر بھی شکست دی، بیانیے کے محاذ پربھی پاکستان فتح یاب ہوا، جنگ کے دوران پاکستان کے میڈیا کا کرداربھی تاریخی تھا۔چیٔرمین پاکستان پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے محاذ پر بھی بھارت شکست کھاگیا، بیانیے کی جنگ میں پاکستانی میڈیا نے صف اوّل کا کردارادا کیا، پانچ دن کی جنگ میں پاکستانی میڈیا نے اپنی ساکھ بنائی، ہمیں پاکستانی میڈیا پر فخرہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارت نے پہلگام واقعے کا بے بنیاد الزام پاکستان پر لگایا، وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ ہم شفاف تحقیقات کرانے کے لیے تیارہیں، اب شفافیت مشکل مرحلہ نہیں، سیٹلائٹ کا زمانہ ہے، ہم نسل درنسل کشمیر کے لیے لڑتے رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں پاکستان معاشی طور پر ترقی کرے اورعوام کو فائدہ ہو۔ان کا مزیدکہنا تھا کہ بھارت چاہتا ہے ڈونلڈ ٹرمپ کی سیزفائرکی کوشش ناکام ہو، پاکستان نے ایک ذمہ دارنیوکلیٔراسٹیٹ کا کردارادا کیا ہے، پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی ملک ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔