کراچی:

ایکسپریس نیوز کے سینئر کرائم رپورٹر اور صحافی مرحوم واثق محمد کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا جہاں سینئر صحافیوں نے انہیں ایک محنتی اور بااصول انسان قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرحوم صحافی ہمہ وقت خبروں کے حصول کے لیے متحرک رہتے تھے اور وہ آج ہم میں نہیں لیکن ان کی صحافتی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

کراچی پریس کلب میں سینئر کرائم رپورٹر واثق محمد مرحوم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن اور کراچی پریس کلب نے مشترکہ طور پر کیا جہاں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے مرکزی رہنما اور روزنامہ ایکسپریس کے ایڈیٹر حسن عباس، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) دستور کے سیکریٹری جنرل اور سینئر ترین کرائم رپورٹر اے ایچ خانزادہ، سینئر صحافی اور ایڈیٹر مقصود یوسفی، سی آر اے کے صدر شاہد انجم سمیت دیگر صحافیوں نے خطاب کیا۔

تعزیتی ریفرنس میں صحافیوں کرائم رپورٹرز،کیمرا مینز اور فوٹوگرافرز نے شرکت کی، سینئر صحافیوں اور کرائم رپورٹرز نے مرحوم سینئر کرائم رپورٹر واثق محمد کے زندگی کے مختلف پہلوں پر روشنی ڈالی۔

سینئر صحافیوں نے مرحوم واثق محمد کی شعبہ کرائم رپورٹنگ کے واقعات کا بھی ذکر کیا، سینئر صحافیوں نے کہا کہ واثق محمد بااصول انسان تھے، وہ ہمیشہ لوگ سے ہنسی مذاق کرتے تھے اور وہ باہمت شخص تھے۔

انہوں نے ہر مشکل سے مشکل وقت میں کرائم رپورٹنگ کرتے ہوئے ہمیشہ خبر کے حصول کے لیے محنت کرتےہوئے دیکھا گیا، مرحوم واثق محمد کے بہت شاگرد ہیں جو اس وقت صحافتی شعبے سے وابستہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ واثق محمد نے انتقال سے قبل اپنی بیماری کا بھی ہنس کر اور ہمت سے مقابلہ کیا، صحافتی رہنماؤں اور کرائم رپورٹرز نے مرحوم واثق محمد کی صحافتی خدمات پر ان کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔

تعزیتی ریفرنس میں مرحوم واثق محمد کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی، کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر شاہد انجم نے اختتامی کلمات ادا کیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مرحوم واثق محمد کی تعزیتی ریفرنس سینئر صحافیوں کرائم رپورٹرز کرائم رپورٹر صحافیوں نے

پڑھیں:

کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق

شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔

اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔ 

حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔

ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟