کراچی پریس کلب میں ایکسپریس نیوز کے سینئرکرائم رپورٹر مرحوم واثق محمد کی یاد میں تعزیتی ریفرنس
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
کراچی:
ایکسپریس نیوز کے سینئر کرائم رپورٹر اور صحافی مرحوم واثق محمد کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا جہاں سینئر صحافیوں نے انہیں ایک محنتی اور بااصول انسان قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرحوم صحافی ہمہ وقت خبروں کے حصول کے لیے متحرک رہتے تھے اور وہ آج ہم میں نہیں لیکن ان کی صحافتی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
کراچی پریس کلب میں سینئر کرائم رپورٹر واثق محمد مرحوم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن اور کراچی پریس کلب نے مشترکہ طور پر کیا جہاں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے مرکزی رہنما اور روزنامہ ایکسپریس کے ایڈیٹر حسن عباس، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) دستور کے سیکریٹری جنرل اور سینئر ترین کرائم رپورٹر اے ایچ خانزادہ، سینئر صحافی اور ایڈیٹر مقصود یوسفی، سی آر اے کے صدر شاہد انجم سمیت دیگر صحافیوں نے خطاب کیا۔
تعزیتی ریفرنس میں صحافیوں کرائم رپورٹرز،کیمرا مینز اور فوٹوگرافرز نے شرکت کی، سینئر صحافیوں اور کرائم رپورٹرز نے مرحوم سینئر کرائم رپورٹر واثق محمد کے زندگی کے مختلف پہلوں پر روشنی ڈالی۔
سینئر صحافیوں نے مرحوم واثق محمد کی شعبہ کرائم رپورٹنگ کے واقعات کا بھی ذکر کیا، سینئر صحافیوں نے کہا کہ واثق محمد بااصول انسان تھے، وہ ہمیشہ لوگ سے ہنسی مذاق کرتے تھے اور وہ باہمت شخص تھے۔
انہوں نے ہر مشکل سے مشکل وقت میں کرائم رپورٹنگ کرتے ہوئے ہمیشہ خبر کے حصول کے لیے محنت کرتےہوئے دیکھا گیا، مرحوم واثق محمد کے بہت شاگرد ہیں جو اس وقت صحافتی شعبے سے وابستہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ واثق محمد نے انتقال سے قبل اپنی بیماری کا بھی ہنس کر اور ہمت سے مقابلہ کیا، صحافتی رہنماؤں اور کرائم رپورٹرز نے مرحوم واثق محمد کی صحافتی خدمات پر ان کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔
تعزیتی ریفرنس میں مرحوم واثق محمد کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی، کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر شاہد انجم نے اختتامی کلمات ادا کیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مرحوم واثق محمد کی تعزیتی ریفرنس سینئر صحافیوں کرائم رپورٹرز کرائم رپورٹر صحافیوں نے
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔