Islam Times:
2026-06-02@23:17:57 GMT

ایرانی وزیر خارجہ سید محمد عباس عراقچی کا اہم انٹرویو

اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT

ایرانی وزیر خارجہ سید محمد عباس عراقچی کا اہم انٹرویو

اسلام ٹائمز: اپنی خصوصی گفتگو میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم نے مذاکرات کیے، لیکن امریکی جنگ میں چلے گئے۔ ہم اپنے وعدوں سے پیچھے نہیں ہٹے۔ ہم منصوبہ بنا رہے ہیں کہ آئندہ سفارتکاری کیسے جاری رہے گی۔ عباس عراقچی نے مزید کہا: میں کل کئی دیگر وزرائے خارجہ سے بات کرنیوالا ہوں۔ انہوں نے کہا: آیا ہم خاص طور پر امریکہ کیساتھ مذاکرات کی طرف لوٹتے ہیں یا نہیں، یہ ایک مخصوص مسئلہ ہے، جسکا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ہمارے مفادات کیا ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا: مذاکرات نہ کوئی مقدس معاملہ ہے، نہ قابل مذمت چیز۔ یہ ایک ایسا رجحان ہے کہ آپ نے فوائد اور مفادات کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ اس میں داخل ہونا ہے یا نہیں۔ ترتیب و تنظیم: علی واحدی

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید محمد عباس عراقچی نے گذشتہ رات ایک خصوصی نیوز ٹاک شو میں خارجہ پالیسی اور صیہونی حکومت و امریکہ کے ایران پر حالیہ حملے کے بعد ہونے والی تازہ ترین پیشرفت کے بارے میں گفتگو کی ہے، جس کے اقتباسات اسلام ٹائمز کے قارئین کی خدمت میں پیش کئے جا رہے ہیں۔

فخر اور عزت کا احساس:
سید عباس عراقچی نے ابتدا میں ایران کے ریڈیو اور ٹی وی "آئی آر آئی بی" کی عمارت کے اپنے دورے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میں IRIB کے ملازمین کو سلام پیش کرتا ہوں، جنہوں نے IRIB کے ہیڈکوارٹر پر حملہ ہونے کے باوجود، IRIB نیٹ ورکس میں سے کسی چینل پر ایک منٹ کا بھی تعطل نہیں آیا اور نشریات جاری رہیں۔

ملک ٹوٹا نہ ہتھیار ڈالے:
عباس عراقچی نے کہا: IRIB میں جو کچھ ہوا، وہ ان 12 دنوں میں جو کچھ ہوا، اس کی ایک مثال ہے۔ مختلف جگہوں پر حملے کیے گئے اور قتل و غارت گری کی گئی، ہم نے اہم لوگ کھوئے، اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا اور بہت مشکل جنگی ماحول پیدا ہوا، لیکن ملک ٹوٹا، نہ ہم نے ہتھیار ڈالے۔ عراقچی نے مزید کہا: "آج رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے یہ بھی کہا کہ ایران ہتھیار ڈالنے کے لفظ سے بالکل ناواقف ہے اور اس لفظ کی ہماری سیاسی اور سماجی لٹریچر اور لغت میں کوئی جگہ نہیں ہے اور یہ بات ان 12 دنوں میں ثابت ہوگئی ہے۔"

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ دو ایٹمی حکومتیں، ایٹمی ہتھیاروں سے لیس سپر پاور، ایٹمی ہتھیاروں سے لیس یورپی حکومتیں سب نے مل کر منصوبہ بنایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور اس کے عوام کو توڑنے، ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے اور امریکی تسلط کے خلاف 50 سالہ جدوجہد کو ختم کرنے پر مجبور کر دیا جائے، لیکن یہ اس قابل نہیں ہیں کہ وہ ایران کے خلاف کامیاب ہوں۔ مبارک ہو، یہ ایک ایسا لمحہ ہے، جو ایرانی عوام کی متحد و منسجم مزاحمت کے طور پر ایرانی تاریخ میں باقی رہے۔ ایرانی وزیر خارجہ  کا کہنا تھا کہ بالآخر مسلح افواج کی کارروائیوں کے نتیجے میں یہ کارروائیاں جنگ بندی پر منتج ہوئیں۔

میں نے کہا کہ ہم جنگ بندی کو قبول نہیں کرتے، کیونکہ جنگ بندی مذاکرات کی پیداوار ہوتی ہے:
بہرحال وہ پالیسی جو حکومت کے فیصلہ ساز حکام نے تسلیم اور منظور کی تھی، وہ یہ تھی کہ اگر دشمن پیشگی شرائط کے بغیر اپنے حملے بند کر دے تو ایران بھی اپنے ردعمل کو ختم کر دے گا، وجہ واضح ہے۔ انہوں نے حملہ کیا اور ہم نے دفاع کیا اور جب حملہ رک جاتا ہے تو دفاع اپنی مطابقت کھو دیتا ہے۔ یہ منگل کی صبح تھی۔ میں زمینی راستے سے واپس آرہا تھا۔ میں اشک آباد سے زمینی راستے سے تہران پہنچا، جب ہمیں دوسری طرف سے پیغام ملا کہ وہ ایرانی وقت کے مطابق صبح 4 بجے سے اپنے حملے روکنے کے لیے تیار ہیں اور اگر ایران روکتا ہے تو وہ جاری نہیں رکھیں گے تو ہم نے جو شرط رکھی تھی، وہ پوری ہوئی اور انہوں نے یہ درخواست بغیر کسی پیشگی شرط کے کی۔ اس دوران میں نے رابطہ کیا اور دوسری طرف اعلان کیا کہ ہم جنگ بندی کو قبول نہیں کرتے، کیونکہ جنگ بندی مذاکرات کی پیداوار ہے۔

عراقچی نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ اگر صیہونی حکومت اپنے حملے جاری نہیں رکھتی تو ہم بھی جاری نہیں رکھیں گے اور اگلے فیصلے بعد میں کیے جائیں گے۔ سید عباس عراقچی کے بقول صیہونی حکومت جارحیت کو روکنے کے حوالے سے مایوسی کے نتیجے میں جنگ بندی پر پہنچی ہے۔ عباس عراقچی نے مزید کہا کہ  میں نے ٹویٹ کرکے درست بیانیہ دینے کی کوشش کی۔ بغیر کسی پیشگی شرط یا درخواست کے صیہونی حکومت نے آپریشن بند کرنے کی درخواست کی تھی۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ میں نے مخالف فریقوں سے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ صیہونی حکومت کو بتائیں کہ ایران لبنان نہیں ہے اور اگر وہ کوئی اقدام کرے گا تو ایران فوراً جوابی کارروائی کرے گا۔

مجھے امید ہے کہ وہ جنگ بندی کا احترام کریں گے اور ہم یہ برداشت نہیں کریں گے کہ اس کی خلاف ورزی ہو۔ ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا: "ہم نے یورپی وزراء خارجہ میں سے ایک کو، جن سے ہم نے آج رات فون پر بات کی، کہا کہ حکومت کو بتا دیں کہ ایران لبنان نہیں ہے اور جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ عباس عراقچی نے نئے مذاکرات کے بارے میں کہا ہے کہ سفارت کاری ہمیشہ موجود ہے۔ یعنی جنگ سے پہلے، جنگ کو روکنا، جنگ کے دوران، دشمن کو کنٹرول کرنا اور جنگ کے بعد، جنگ کے نتائج سے نمٹنا۔ یقیناً مذاکرات سفارت کاری کا حصہ ہیں۔ جب ہم سفارت کاری کی بات کرتے ہیں تو یہ نہیں کہ ہم مذاکرات کی بات کر رہے ہیں اور جب ہم مذاکرات کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم معاہدے کی بات کر رہے ہیں۔ سفارتی اقدام ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے مذاکرات کیے، لیکن امریکی جنگ میں چلے گئے۔ ہم اپنے وعدوں سے پیچھے نہیں ہٹے۔ ہم منصوبہ بنا رہے ہیں کہ آئندہ سفارت کاری کیسے جاری رہے گی۔ عباس عراقچی نے مزید کہا: میں کل کئی دیگر وزرائے خارجہ سے بات کرنے والا ہوں۔ انہوں نے کہا: آیا ہم خاص طور پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی طرف لوٹتے ہیں یا نہیں، یہ ایک مخصوص مسئلہ ہے، جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ہمارے مفادات کیا ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا: مذاکرات نہ کوئی مقدس معاملہ ہے، نہ قابل مذمت چیز۔ یہ ایک ایسا رجحان ہے کہ آپ نے فوائد اور مفادات کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ اس میں داخل ہونا ہے یا نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایرانی وزیر خارجہ نے عراقچی نے مزید کہا وزیر خارجہ نے کہا عباس عراقچی نے صیہونی حکومت مذاکرات کی سفارت کاری مفادات کی کی بات کر نے کہا کہ انہوں نے رہے ہیں ہے اور یہ ایک ہیں کہ

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟