کراچی، کہیں بارش کا پانی نہیں کھڑا، مرتضیٰ وہاب کا شہر کے دورے کے بعد بڑا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں چند گھنٹے قبل بارش کے پہلے اسپیل کے دوران میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے رات گئے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور نکاسی آب کے انتظامات کا جائزہ لیا۔
میئر کراچی کے مطابق شہر کی بیشتر مرکزی شاہراہیں بارش کے بعد کلیئر رہیں اور کہیں سے بھی پانی جمع ہونے کی کوئی بڑی شکایت موصول نہیں ہوئی۔
مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ کے ایم سی کی ٹیمیں مشینری کے ساتھ اہم شاہراہوں اور حساس علاقوں میں متحرک رہیں، جبکہ گرو مندر کے مقام پر معمولی پانی جمع ہونے کی اطلاع ملی تھی، جہاں فوری طور پر نکاسی کا کام مکمل کر لیا گیا۔
میئر کراچی کے مطابق شاہراہِ فیصل، سر شاہ سلیمان روڈ، آئی آئی چندریگر روڈ، ایم اے جناح روڈ، نرسری، ٹیپو سلطان روڈ، طارق روڈ، کارساز اور ملحقہ علاقوں سمیت دیگر اہم سڑکیں مکمل طور پر کلیئر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔