حکومت 27ویں آئینی ترمیم لارہی ہے اور یہ ضرور آئے گی، نائب وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم حکومت لارہی ہے اور یہ ضرور آئے گی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سینیٹ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت آئینی ترمیم لارہی ہے اور لائے گی اور یہ ہماری ترمیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم سمیت اتحادیوں کو اعتماد میں لیں گے اور ہم 27 ویں ترمیم پر اپنے سب سے بڑے اتحادی پیپلزپارٹی کے ساتھ بیٹھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اتحادیوں کو ساتھ لے کر چل رہی ہے، تجویز دیتا ہوں ترمیم پہلے سینیٹ میں پیش کی جائے کیونکہ قانون سازی کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ علی ظفر کو یقین دلاتا ہوں ترمیم پر بحث ہوگی، قانون کے مطابق 27 ویں آئینی ترمیم پیش کریں گے، بلاول نے ٹویٹ کیا وہ ہمارے اتحادی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ اپنے چیمبر میں فیصلہ کرتے ہیں اور قائد حزب اختلاف کی تعیناتی بھی اُن کی ہی ذمہ داری ہے، میرے خیال میں یہ بالکل ہونی چاہیے، جتنی جلدی اپوزیشن لیڈر آئے اچھا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے 2 ہزار میٹرک ٹن امداد غزہ بھیجی جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ امن منصوبے کے حوالے سے 8 ملک کے ساتھ مشاورت کی مگر اسرائیل امن معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے کہا نے کہا کہ
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔