آئندہ 48گھنٹے میں ملک بھر میں بارشوں ممکنہ سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
آئندہ 48گھنٹے میں ملک بھر میں بارشوں ممکنہ سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 26 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)مون سون بارشوں کے پیش نظر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے نیا موسمیاتی الرٹ جاری کر دیا ہے ، اگلے چوبیس تا اڑتالیس گھنٹے کے دوران ملک بھر کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور ممکنہ سیلاب کا امکان ہے ۔سندھ اور پنجاب کے شہری علاقوں اور خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں اربن فلڈنگ اور لینڈ سلائیدنگ کا خطرہ ہے ۔گلگت بلتستان کے بعض علاقوں میں بھی سیلاب کا خطرہ ہے۔
الرٹ کے مطابق اگلے چوبیس سے اڑتالیس گھنٹے کے دوران ملک بھر کے مختلف علاقوں میں بارشوں اورممکنہ سیلاب کا امکان ہے۔ 26 تا 28 جون کے دوران اسلام آباد، فیصل آباد، سرگودھا، میانوالی اور ڈی جی خان میں تیز ہواں کے ساتھ موسلادھار بارش متوقع ہیں۔ پنجاب کے علاقوں لاہور راولپنڈی گوجرانوالہ ملتان بہاولپور رحیم یار خان کے شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال کا امکان ہونے کے ساتھ سندھ میں کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، سجاول، جامشورو، نوابشاہ اورلاڑکانہ کے شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔
سکھر، کشمور، تھرپارکر، میرپورخاص، عمرکوٹ، سانگھڑ، ٹنڈو الہ یار، بدین میں موسلادھار بارش متوقع ہے جبکہ خیبرپختون خوا میں چترال، سوات، کوہستان ، مانسہرہ اورایبٹ آباد میں بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ متوقع ہے۔ آزاد کشمیر کے مظفرآباد۔ نیلم ویلی، باغ، راولا کوٹ، حویلی، ہٹیاں بالا میں طوفانی بارشیں اور لینڈ سلائیڈنگ ہوسکتی ہے۔26 تا 29 جون تک گلگت بلستان میں دیا مر، استور اور غذر میں آندھی اور طوفانکے ساتھ بارش متوقع ہے۔ اسکردو، ہنزہ۔گلگت، گھانچے اور شگر میں آندھی اور طوفان کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ بارشوں سے دریائے ہنزہ۔۔خنجراب اور کلک میں سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان میں محرم الحرام کا چاند نظر آگیا، یوم عاشور اتوار 6 جولائی کو ہوگا پاکستان میں محرم الحرام کا چاند نظر آگیا، یوم عاشور اتوار 6 جولائی کو ہوگا قومی اسمبلی اجلاس، وزیرِاعظم نے پی ٹی آئی رہنماوں سے ان کی نشست پر جا کر مصافحہ کیا حماس پر امداد قبضے میں لینے کاالزام، اسرائیل نے غزہ میں امداد کا داخلہ روک دیا پنجاب کا بجٹ ایوان میں کثرت رائے سے منظور، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا عمران خان سے ملاقات پر ٹیکس لگادیں، پورا پاکستان آئے گا، بجٹ خسارہ پورا ہو جائیگا، اقبال آفریدی قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کا بجٹ منظور کرلیا،پیٹرولیم مصنوعات پر ڈھائی روپے فی لٹر کاربن لیوی عائد، 5 کروڑ سے زائد ٹیکس...
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سیلاب کا ملک بھر کا خطرہ
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز