چودھری عدنان قتل کیس، سابق سینیٹر چودھری تنویر کی ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
سٹی42 : سابق پارلیمانی سیکرٹری چودھری عدنان قتل کیس میں نامزد سابق سینیٹر چودھری تنویر کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی گئی۔
ایڈیشنل سیشن جج چوہدری ماجد حسین نے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا،عدالت نے چودھری تنویر کو 10،10 لاکھ روپے کے دو مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ۔ اس سے قبل کیس میں وکلاء کی جانب سے تفصیلی دلائل دیئے گئے تھے جس کے بعد عدالت نے گزشتہ روز فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
مخصوص نشستوں کی بحالی کا فیصلہ؛ کس پارٹی کو کیا ملا
خیال رہے کہ چودھری تنویر اس کیس میں گرفتار تھے اور انہوں نے ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا، عدالت کی جانب سے ضمانت منظور ہونے کے بعد ان کی رہائی کی راہ ہموار ہو گئی ہے، چودھری عدنان کو 12 فروری کی شام پولیس لائنز گیٹ کے قریب فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا، ملزموں کے خلاف تھانہ سول لائنز راولپنڈی میں قتل کا مقدمہ درج ہے۔
چوہدری عدنان 2018 میں راولپنڈی سے پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 11 سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے تاہم 9 مئی کے واقعات کے بعد پارٹی سے علیحدگی کے باعث وہ حالیہ الیکشن میں آزاد حیثیت میں میدان میں اترے تھے۔
سوات میں سیاحوں کے ڈوبنے کے بعد علی امین نے تین افسر معطل کر دیئے
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 چودھری تنویر کے بعد
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔