پاکستان کسی گروپ کو ملک کے اندر یا باہر دہشت گرد حملوں کی اجازت نہیں دیتا‘بلاول
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی د ہلی(مانیٹر نگ ڈ یسک ) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ بھارت کے جن گروپوں پر تحفظات ہیں، اس حوالے سے حال ہی میں ہم ایف اے ٹی ایف کے سخت عمل سے گزرے ہیں ، ایف اے ٹی ایف میں عالمی برادری نے ان گروپوں کے خلاف پاکستان کے اقدامات کی تصدیق کی ہے۔بھارتی میڈیا کو انٹرویو میں بلاول زرداری کا کہناتھاکہ پاکستان کسی گروپ کو ملک کے اندر یا باہر دہشت گرد حملوں کی اجازت نہیں دیتا، پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا شکارہے اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے،
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 92 ہزار پاکستانیوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس دہشت گردی کے 200 سے زیادہ واقعات پیش آئے، 1200 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے، پاکستان میں دہشت گرد حملے رواں برس بھی جاری ہیں، دہشت گردی کے حوالے سے یہ سال پاکستان کی تاریخ میں بدترین سال ہے، میں خود دہشت گردی کا شکار رہا ہوں اور پہلگام دہشت گرد حملے کا درد محسوس کر سکتا ہوں۔ان کا کہنا تھاکہ ہمارے خطے میں دہشت گردی کی ایک تاریخ ہے اس میں لشکر جھنگوی، لشکر طیبہ اور دیگر دہشت گرد گروپ ہیں، سرد جنگ کی وجہ سے پاکستان کی یہ پالیسی تھی کہ ان گروپس کو اس وقت نہ دہشت گرد سمجھا گیا نہ کہا گیا، دہشت گرد کا لفظ نائن الیون کے بعد آیا، اس سے پہلے ایسے گروپوں کو فریڈم فائٹرز کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور افغانستان اور سرد جنگ کے دوران لڑنے والوں کو اسی طرح دیکھا گیا، ا±س وقت بھی میری والدہ اور میری جماعت اس بات کی ہم خیال نہیں تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دہشت گردی کے
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔