چلاس، اغوا ہونے والے واپڈا کے دو ملازمین کامیاب مذاکرات کے بعد رہا
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
واپڈا کالونی تھور میں ڈیوٹی سر انجام دینے والے آٹھ کے قریب ملازمین تھور گبر اخروٹ کی خریداری کے لئے گئے تھے جہاں اغواء کاروں نے دیگر ملازمین کو چھوڑ کر معراج الدین اور اسد الیاس نامی سینئر سپرٹینڈنٹ HR ایڈمن کو اغواء کیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں تھور چلاس سے اغوا ہونے والے واپڈا کے دو ملازمین رہا ہو گئے۔ چند روز دہشتگردوں نے تھور چلاس سے واپڈا کے دو ملازمین کو اغوا کر لیا تھا۔ دہشتگردوں سے ملازمین کی بازیابی کیلئے مذاکرات جاری تھے اور اس کیلئے دیامر کے مقامی علماء کی بھی مدد حاصل کی گئی تھی۔ خیال رہے کہ دونوں ملازمین کو25 اکتوبر کو تھور نالہ میں دہشتگردوں نے اغوا کر لیا تھا۔ واپڈا کالونی تھور میں ڈیوٹی سر انجام دینے والے آٹھ کے قریب ملازمین تھور گبر گاؤں میں اخروٹ کی خریداری کے لئے گئے تھے جہاں عسکریت پسندوں نے دیگر ملازمین کو چھوڑ کر معراج الدین اور اسد الیاس نامی سینئر سپرٹینڈنٹ HR ایڈمن کو اغواء کر لیا تھا۔ واپڈا ملازمین کی بازیابی کیلئے کوششیں جاری تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ملازمین کو
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔