کراچی؛ پولیس حراست میں نوجوان کی ہلاکت، ملزمان پولیس اہلکار ایف آئی اے کے حوالے
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
کراچی:
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے نوجوان محمد عرفان کی پولیس کسٹڈی میں ہلاکت کے مقدمے میں اے ایس آئی عابد شاہ اور کانسٹیبل آصف علی کو ایف آئی اے کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی زاہد علی کی عدالت کے روبرو پولیس نے نوجوان محمد عرفان کی پولیس کسٹڈی میں ہلاکت کے مقدمے میں ریمانڈ ختم ہونے پر ملزمان کو پیش کیا۔ ملزمان میں اے ایس آئی عابد شاہ اور کانسٹیبل آصف علی شامل ہیں۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ پولیس کسٹڈی میں کوئی جاں بحق ہو تو اس کیس کی تفتیش قانون کے مطابق ایف آئی اے کرتی ہے۔ تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ہم ملزمان کو آج ایف آئی اے کے حوالے کر دیں گے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ زاہد علی نے دونوں ملزمان پولیس اہلکاروں کو ایف آئی اے کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے حراست کے دوران غفلت اور لاپروائی کے باعث عرفان بلوچ کی جان ضائع کی۔ عرفان بلوچ کو دیگر 3 ساتھیوں کے ہمراہ مخبرِ خاص کی اطلاع پر للی برج کے قریب گرفتار کیا گیا تھا۔
گرفتاری کے بعد اے ایس آئی عابد شاہ اور اے ایس آئی سرفراز نے عرفان بلوچ سے تفتیش کی، اس دوران عرفان کی حالت اچانک خراب ہوگئی اور وہ بے ہوش ہوگیا۔ اہلکاروں نے فوری اطلاع دیے بغیر اسے اسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے عرفان بلوچ کو مردہ قرار دیا.
پولیس کے مطابق مقدمے کی نوعیت مشکوک ہے، کیونکہ عرفان بلوچ کی ہلاکت کے بعد اس کے ساتھ گرفتار کیے گئے 3 دیگر افراد کو پولیس نے رہا کر دیا، جس سے مزید شکوک و شبہات نے جنم لیا ہے۔ ملزمان کے 4 ساتھی پولیس اہلکار مفرور ہیں۔
اے ایس آئی سرفراز، کانسٹیبل وقار، ہمایوں اور فیاض واقع کے بعد فرار ہوگئے تھے۔ نوجوان کے مرنے کے بعد پولیس اہلکاروں نے اس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، ملزمان کے خلاف صدر پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اے کے حوالے عرفان بلوچ اے ایس آئی ایف آئی اے کے بعد
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔