data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک کی 3 بڑی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی پر ایکشن یتے ہوئے مجموعی طور پر 10 کروڑ روپے کے جرمانے عائد کر دیے۔

نیپرا کے مطابق گجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو)، کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) نقصانات میں کمی اور ریکوری بڑھانے میں ناکام رہیں۔

نیپرا کے فیصلے کے مطابق گیپکو پر 5 کروڑ روپے کا بھاری جرمانہ عائد کیا گیا ہے، جب کہ الیکٹرک پولز کی ارتھنگ نہ کرنے پر اسے اضافی سزا کے طور پر ستمبر 2024 سے یومیہ ایک لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

اسی طرح کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) پر 4 کروڑ روپے اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) پر ایک کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ نیپرا نے کیسکو کو 15 روز کے اندر جرمانہ ادا کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔

نیپرا رپورٹ کے مطابق مالی سال 2023-24 میں تینوں کمپنیوں کی کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے نقصانات میں 3.

3 فیصد اضافہ ہوا، جس سے قومی خزانے پر 15 ارب 50 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑا۔ اسی عرصے میں گیپکو کے نقصانات 2.61 فیصد بڑھے، جس سے خزانے پر 1 ارب 20 کروڑ روپے کا بوجھ پڑا۔ فیسکو کے نقصانات میں بھی 0.88 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے قومی معیشت پر مزید 4 ارب 80 کروڑ روپے کا مالی دباؤ آیا۔

اتھارٹی نے ان کمپنیوں کو پہلے شوکاز نوٹسز جاری کیے تھے اور سماعت کے دوران وضاحت طلب کی گئی، تاہم تینوں کمپنیاں اپنے دفاع میں نیپرا کو مطمئن کرنے میں ناکام رہیں۔

نیپرا کے مطابق بجلی کمپنیوں کی انتظامیہ کی نااہلی اور ناقص نظام کے باعث لائن لاسز میں اضافہ اور ریکوری میں کمی نے صارفین اور خزانے دونوں کو نقصان پہنچایا۔

حکام کا کہنا ہے کہ بجلی کے شعبے میں شفافیت اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے احتسابی عمل مزید سخت کیا جائے گا تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں جرمانے ادا نہ کیے گئے تو مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: الیکٹرک سپلائی کمپنی کروڑ روپے کا کے مطابق

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف