ٹنڈو الہیار میں میں ای ٹکٹنگ اورای چالان کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوالٰہیار(نمائندہ جسارت)ڈپٹی کمشنر ٹنڈوالہیار نور مصطفٰی لغاری کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ضلع بھر میں جدید ای ٹکٹنگ اور ای چالان سسٹم کے نفاذ کا آغاز کر دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں عوام کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ نیا نظام شفافیت، قانون پر عملدرآمد اور عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے متعارف کرایا جا رہا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں اب جرمانے ڈیجیٹل طریقے سے جاری ہوں گے، جس سے نہ صرف محکمہ جاتی کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ کرپشن اور بے ضابطگی کے امکانات میں بھی نمایاں کمی متوقع ہے۔ شہریوں کو چالان کی کاپی، جرمانے کی تفصیلات اور ادائیگی کے طریقہ کار تک آن لائن رسائی فراہم کی جائے گی، جس سے عوام کا وقت بچے گا، ٹریفک نظام بہتر ہوگا اور قانون پر مکمل عملدرآمد ممکن ہو سکے گا۔ڈپٹی کمشنر نور مصطفٰی لغاری نے اس موقع پر یقین دہانی کروائی کہ ضلعی انتظامیہ اس نظام کی کامیابی کے لئے عوامی آگاہی مہم بھی چلائے گی۔ انہوں نے شہریوں سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جدیدیت کی جانب قدم بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔