بلوچستان اور آزاد کشمیر میں دانش اسکولوں کا قیام: 19ارب25کروڑروپے منظور
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: سنٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی ( سی ڈی ڈبلیو پی ) نے بلوچستان اور آزاد کشمیر میں دانش اسکول کھولنے کے لیے 19 ارب 25 کروڑ روپے کی منظوری دے دی۔
وزارت منصوبہ بندی کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق سنٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی ( سی ڈی ڈبلیو پی ) کا اجلاس وفاقی وزیر احسن اقبال کی زیر صدارت ہوا جس میں بلوچستان میں 5 دانش اسکولوں کے قیام کے منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
اعلامیے کے مطابق سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر میں بھی دانش اسکول کے قیام کے منصوبے کی منظوری دی گئی۔
بلوچستان میں قلعہ سیف اللہ اور سبی میں دانش اسکولوں کے قیام کے منصوبوں کی منظوری دی گئی، اسی طرح ڈیرہ بگٹی ، ژوب اور موسی خیل میں بھی دانش اسکول کھولے جائیں گے۔
اعلامیے کے مطابق آزاد کشمیر میں دانش اسکول کے قیام پر 3 ارب روپے سے زائد لاگت آئے گی۔
اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ ان منصوبوں پر مجموعی طور پر 19 ارب 25 کروڑ 30 لاکھ روپے لاگت آئے گی، منصوبوں پر وفاق اور متعلقہ صوبائی حکومتوں 50،50 فیصد لاگت برداشت کریں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں دانش اسکول کی منظوری کے قیام
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔