ثمربلورکی اپنی مرضی ہے، میں اے این پی کے ساتھ ہوں، غلام بلور کا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما غلام احمد بلور نے اپنی بھابھی ثمر ہارون بلور کے پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے، جس میں وہ مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔
غلام بلور کا کہنا تھا کہ ثمر بلور کی اپنی مرضی ہے، میں کسی کے ذاتی فیصلے میں کیا کر سکتا ہوں؟ میں بدستور اے این پی کے ساتھ ہوں۔
خیال رہےکہ پشاور کے معروف اور اثر و رسوخ رکھنے والے بلور خاندان کی بہو اور اے این پی کی صوبائی رہنما ثمربلور نے مسلم لیگ (ن) میں باضابطہ طور پر شمولیت اختیار کر لی، ان کی شمولیت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سیاسی جوڑ توڑ اور آئندہ عام انتخابات کی تیاریوں کا سلسلہ زوروں پر ہے۔
ثمربلور نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے ملاقات کے بعد شمولیت کا اعلان کیا، جسے سیاسی حلقوں میں اے این پی کے لیے ایک اہم جھٹکا اور مسلم لیگ (ن) کے لیے پشاور میں مضبوط قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ ثمر ہارون بلور، اے این پی کے شہید رہنما ہارون بلور کی بیوہ ہیں، جو 10 جولائی 2018 کو پشاور میں ایک خودکش حملے میں ہلاک ہو گئے تھے، وہ انتخابی مہم کے دوران نشانہ بنے، ہارون بلور، اے این پی کے سینئر رہنما اور سابق صوبائی وزیر بشیر احمد بلور کے صاحبزادے تھے جو خود بھی 2012 میں دہشت گردی کا نشانہ بنے تھے۔
شوہر کی ہلاکت کے بعد ثمربلور نے نہ صرف غم کو حوصلے میں بدلا بلکہ سیاست میں بھرپور قدم رکھتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی میں فعال کردار ادا کیا، انہوں نے صوبائی سطح پر پارٹی کی ترجمانی کی اور کئی عوامی ایشوز پر آواز بلند کی۔
ذرائع کے مطابق بلور خاندان کے دیگر افراد، بالخصوص غلام احمد بلور اور الیاس بلور بدستور اے این پی کے ساتھ ہیں جب کہ ثمر بلور کے اس فیصلے کو ان کی انفرادی سیاسی حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اے این پی کے ہارون بلور مسلم لیگ بلور نے
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔