data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما غلام احمد بلور نے اپنی بھابھی ثمر ہارون بلور کے پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے، جس میں وہ مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔

غلام بلور کا کہنا تھا کہ ثمر بلور کی اپنی مرضی ہے، میں کسی کے ذاتی فیصلے میں کیا کر سکتا ہوں؟ میں بدستور اے این پی کے ساتھ ہوں۔

خیال رہےکہ  پشاور کے معروف اور اثر و رسوخ رکھنے والے بلور خاندان کی بہو اور اے این پی کی صوبائی رہنما ثمربلور نے مسلم لیگ (ن) میں باضابطہ طور پر شمولیت اختیار کر لی، ان کی شمولیت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سیاسی جوڑ توڑ اور آئندہ عام انتخابات کی تیاریوں کا سلسلہ زوروں پر ہے۔

ثمربلور نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے ملاقات کے بعد شمولیت کا اعلان کیا، جسے سیاسی حلقوں میں اے این پی کے لیے ایک اہم جھٹکا اور مسلم لیگ (ن) کے لیے پشاور میں مضبوط قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ ثمر ہارون بلور، اے این پی کے شہید رہنما ہارون بلور کی بیوہ ہیں، جو 10 جولائی 2018 کو پشاور میں ایک خودکش حملے میں ہلاک ہو گئے تھے، وہ انتخابی مہم کے دوران نشانہ بنے، ہارون بلور، اے این پی کے سینئر رہنما اور سابق صوبائی وزیر بشیر احمد بلور کے صاحبزادے تھے جو خود بھی 2012 میں دہشت گردی کا نشانہ بنے تھے۔

شوہر کی ہلاکت کے بعد ثمربلور نے نہ صرف غم کو حوصلے میں بدلا بلکہ سیاست میں بھرپور قدم رکھتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی میں فعال کردار ادا کیا، انہوں نے صوبائی سطح پر پارٹی کی ترجمانی کی اور کئی عوامی ایشوز پر آواز بلند کی۔

ذرائع کے مطابق بلور خاندان کے دیگر افراد، بالخصوص غلام احمد بلور اور الیاس بلور بدستور اے این پی کے ساتھ ہیں جب کہ ثمر بلور کے اس فیصلے کو ان کی انفرادی سیاسی حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اے این پی کے ہارون بلور مسلم لیگ بلور نے

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  •   جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی
  • جی بی الیکشن:سکردو سےمسلم لیگ ن کو بڑی کامیابی مل گئی
  • صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے