ثمر بلور کی ن لیگ میں شمولیت پر ایمل ولی خان کا ردعمل: ’کوئی حیرت کی بات نہیں‘
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صدر ایمل ولی خان نے ثمر بلور کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ان کے لیے غیر متوقع نہیں تھا، کیونکہ متعدد ساتھی پہلے ہی اس امکان سے آگاہ کرچکے تھے۔
’صوبائی اسمبلی کی نشست شہید بشیر بلور اور شہید ہارون بلور کی قربانیوں کے نتیجے میں ملی تھی‘
اپنے بیان میں ایمل ولی نے کہا کہ ثمر بلور کو صوبائی اسمبلی کی نشست شہید بشیر بلور اور شہید ہارون بلور کی قربانیوں کے نتیجے میں ملی تھی، اور یہ بات نظرانداز نہیں کی جاسکتی۔
یہ بھی پڑھیں: عوامی نیشنل پارٹی کو بڑا دھچکا، ثمر ہارون بلور کی مسلم لیگ ن میں شمولیت، وزیراعظم سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ حاجی غلام احمد بلور آج بھی پارٹی کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ ان کی دہائیوں پر محیط سیاسی جدوجہد اور قربانیاں سب کے سامنے ہیں اور ان کی شخصیت اس عمر میں مزید سیاسی آزمائشوں کی مستحق نہیں۔
یاد رہے کہ ثمر بلور نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ اس موقع پر ان کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی، جس میں وفاقی وزیر امیر مقام بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ ن میں شامل ہونے والی ثمر ہارون بلور کو رکن قومی اسمبلی بنانے کا فیصلہ
ملاقات کے دوران ثمر بلور نے مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے کا باضابطہ اعلان کیا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ثمر بلور کی شمولیت سے خیبرپختونخوا میں ن لیگ مزید مستحکم ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ایمل ولی خان اے این پی ثمر بلور عوامی نیشنل پارٹی مسلم لیگ ن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایمل ولی خان اے این پی ثمر بلور عوامی نیشنل پارٹی مسلم لیگ ن میں شمولیت ہارون بلور ایمل ولی ثمر بلور مسلم لیگ بلور کی
پڑھیں:
بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔