خیبر پختونخوا میں اے این پی کو بڑا دھچکا، اہم رہنماء مسلم لیگ نون میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
ہارون بلور کی بیوہ بشیر بلور کی بہو نے مسلم لیگ نون میں شمولیت اختیار کرلی ہے، ثمر بلور نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں نواز لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں اے این پی کو بڑا دھچکا لگا ہے، پارٹی کی اہم رہنما مسلم لیگ نون میں شامل ہو گئیں۔ تفصیلات کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کو خیبر پختونخوا میں بڑا سیاسی نقصان ہوا ہے۔ ہارون بلور کی بیوہ بشیر بلور کی بہو نے مسلم لیگ نون میں شمولیت اختیار کرلی ہے، ثمر بلور نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں نواز لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ ثمر بلور نے بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ہے اور ان کی ن لیگ میں باقاعدہ شمولیت کے اعلان کی خبر وزیراعظم سیکرٹریٹ سے آئے گی۔ واضح رہے کہ ثمر بلور اپنے شوہر ہارون بلور کے حلقے سے ایم پی اے منتخب ہوئی تھی، ان کے حوالے سے کچھ عرصہ قبل پیپلز پارٹی میں شمولیت کی خبریں سامنے آئی تھیں۔
ثمر بلور اے این پی قیادت سے اختلافات کے باعث پارٹی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہوگئی تھیں۔ دوسری جانب حاجی غلام بلور نے عوامی نیشنل اپرٹی (اے این پی) نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ حاجی غلام بلور اے این پی میں ہی رہیں گے۔ ان کی پارٹی کے لیے قربانیاں ہیں، وہ اے این پی نہیں چھوڑ رہے۔ یاد رہے کہ ہارون بلور کی ساتویں برسی کل منائی جائے گی۔ جولائی 2018 کی انتخابی مہم کے دوران ہارون بلور خودکش حملے میں شہید ہوئے تھے۔ دوسری جانب وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے ثمر ہارون بلور، سعیدہ جمشید اور جمشید مہمند نے اسلام آباد میں ملاقات کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مسلم لیگ نون میں شہباز شریف سے میں شمولیت ہارون بلور اے این پی ثمر بلور بلور نے بلور کی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔