ایشین گیمز میں پاکستان کو پہلا میڈل دلوانے والے دین محمد پہلوان طویل انتقال کرگئے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
ایشین گیمز میں پاکستان کو پہلا میڈل دلوانے والے پہلوان دین محمد علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 100 برس سے زیادہ تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پہلوانوں کے شہر گجرانوالہ میں اب لڑکیاں بھی پہلوانی کے میدان میں
دین محمد پہلوان نے سنہ 1954 کے ایشین گیمز میں پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیتا تھا۔
مزید پڑھیے: رستم زماں گاما پہلوان جسے موت کے سوا کوئی زیر نہیں کرسکا
لاہور کے نواحی علاقے باٹا پور سے تعلق رکھنے والے دین محمد پہلوان نے پاکستان کی طرف سے منیلا میں ہونے والے ایشین گیمز میں پاکستان کا پرچم بلند کیا تھا اور ٹائٹل جیتنے کے لیے فلپائن، بھارت اور جاپان کے پہلوانوں کو شکست دی تھی۔
دین محمد پہلوان نے ایشین گیمز میں میڈل جیتنے کے علاوہ کئی انٹرنیشنل مقابلوں میں پاکستان کا پرچم بلند کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایشین گیمز ایشین گیمز میں پاکستان کا پہلا گولڈ میڈل دین محمد پہلوان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایشین گیمز دین محمد پہلوان ایشین گیمز میں پاکستان دین محمد پہلوان
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔