امریکی وزارتِ دفاع نے یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹاما ہاک کروز میزائلوں کی فراہمی کی منظوری دیدی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ جنگ پینٹاگون اہلکاروں نے بتایا ہے کہ وزارتِ دفاع کی جانب سے یوکرین کو امریکی ٹاماہاک کروز میزائلوں کی فراہمی کی منظوری دی گئی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس کی فراہمی سے امریکی ہتھیاروں کا ذخیرہ متاثر نہیں ہوگا۔

یوکرین کو امریکی ساختہ ٹوماہاک میزائل فراہم کرنے سےمتعلق حتمی فیصلہ امریکی صدر ٹرمپ کریں گے۔

واضح رہے یوکرین کے صدر زیلنسکی کی جانب سے روس کے خلاف جاری جنگ میں روسی توانائی اور انفرااسٹکچر اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ان میزائلوں کی فراہمی کی درخواست کی گئی تھی۔

ٹاماہاک کروز میزائل 1 ہزار میل(تقریباً 1600 کلومیٹر) کی حدِ ضرب رکھتا ہے اور اس کو آبدوز اور بحری جہاز سے آسانی سے داغا جاسکتا ہے۔

امریکی دفاعی اہلکاروں نے مزید بتایا ابھی اس میزائل کو حوالے کرنے سے متعلق کئی اہم امور زیرِ غور ہیں جن میں اس کی تعیناتی اور تربیت کے معاملات قابل ذکر ہیں۔

امریکی میڈیا کی جانب سے مزید بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران روسی صدر پیوٹن نے اپنے خدشات کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یوکرین کو ٹاماہاک کروز میزائلوں کی فراہمی سے ماسکو اور سینٹ پیٹرز برگ جیسے اہم شہروں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اور اسی وجہ سے انکی فراہمی سے روس اور امریکی تعلقات میں مسائل میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: میزائلوں کی فراہمی یوکرین کو

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ کی پیرس میں پراسرار موت
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن