پاکستان ریلوے کا اسٹیشنز اور ٹرینوں میں ’اوگرا‘ سے منظور شدہ سلنڈرز کی چیکنگ مہم کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ریلوے اسٹیشنز اور ٹرینوں میں استعمال ہونے والے سلنڈرز کی حفاظت اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے OGRA سے منظور شدہ سلنڈرز کی چیکنگ مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ اعلان وزیر ریلوے کی زیر صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں کیا گیا جس میں مغلپورہ، اسلام آباد، اور اضاخیل ڈرائی پورٹس کی کارکردگی اور آمدن کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران وزیر ریلوے نے کہا کہ تمام ریلوے اسٹیشنز اور ٹرینوں میں نصب گیس سلنڈرز کی جانچ پڑتال کا عمل OGRA کی منظوری کے مطابق مکمل کیا جائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے یا خرابی سے بچا جا سکے۔
مزید پڑھیں: اوگرا نے ایل پی جی سلنڈرز کی خرید و فروخت پر پابندی کیوں عائد کی؟
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی غیر منظور شدہ سلنڈر کا استعمال ناقابل قبول ہوگا اور متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
وزیر ریلوے نے مزید کہا کہ ریلوے کی سروسز میں بہتری، مسافروں کے تحفظ، اور معیاری سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام اسٹیشن ماسٹرز کو صفائی، خوبصورتی اور سہولیات کی فراہمی میں بہترین کارکردگی دکھانے پر انعام دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔
وزیر ریلوے نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جو اسٹیشن ماسٹر بہتر کام کرے گا، اُسے ذاتی طور پر انعام دیا جائے گا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ اسٹیشنز کے بار بار دورے کریں، مسافروں سے براہ راست رابطہ رکھیں اور ان کے مسائل موقع پر حل کریں۔
مزید پڑھیں: مردان میں گیس سلنڈر دھماکا: 6 افراد جاں بحق، 2 بچیاں زخمی
یاد رہے کہ 31 اکتوبر 2019 کو افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا، جب پنجاب کے شہر رحیم یار خان کے قریب چلتی ٹرین میں مسافروں کی جانب سے لے جائے گئے گیس سلنڈر کے دھماکے کے باعث آگ بھڑک اٹھی، جس میں کم از کم 70 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ یہ حادثہ پاکستان ریلوے کی تاریخ کے بدترین سانحات میں شمار کیا جاتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
OGRA رحیم یار خان گیس دھماکا سلنڈرز وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: رحیم یار خان گیس دھماکا وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی وزیر ریلوے سلنڈرز کی
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔