لاہور:پنجاب حکومت نے لاہور رنگ روڈ پر سفر کرنے والی گاڑیوں کی جدید نگرانی کے لیے کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس منصوبے کی منظوری صوبائی وزیر تعمیرات و موصلات ملک صہیب احمد بھرتھ نے دے دی۔ اجلاس میں صوبائی وزیر کو کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو سہیل اشرف، چیئرمین پنجاب رنگ روڈ اتھارٹی فیصل فرید اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران شریک تھے۔

ملک صہیب احمد بھرتھ کے مطابق کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر سے رنگ روڈ سے گزرنے والی روزانہ ایک لاکھ پچاس ہزار گاڑیوں کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔ ٹریفک مینجمنٹ کے ساتھ ساتھ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر بھی سخت نظر رکھی جائے گی۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ انٹیلیجنٹ ٹرانسپورٹ سسٹم کو کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر سے منسلک کیا جائے گا، جس کے تحت اسپیڈ ریڈار، اے آئی کنٹرول کیمرے، ویٹ اسٹیشن اور دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کے استعمال کی مانیٹرنگ ممکن ہوگی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر رنگ روڈ اتھارٹی کے ہیڈ آفس میں قائم کیا جائے گا، جہاں 42 بڑی اسکرینز اور 20 تجزیاتی اسکرینز نصب کی جائیں گی۔

ملک صہیب احمد بھرتھ کے مطابق منصوبہ 871 ملین روپے کی لاگت سے چار ماہ میں مکمل کیا جائے گا اور یہ سنٹر رنگ روڈ اتھارٹی کے ایچ آر ڈپارٹمنٹ سے آپریشنل ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر رنگ روڈ

پڑھیں:

وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔

وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔

مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی