data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

میرپورخاص (نمائندہ جسارت) ریلوے ملازمین کی نمائندہ تنظیم پریم یونین کے صدر شیخ محمد انور کی قیادت میں یونین کے وفد کی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی سے ریلوے ہیڈکوارٹرز میں ملاقات ۔ اس موقع پر پاکستان ریلوے کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر/سینئر جنرل منیجر عامر علی بلوچ بھی موجود تھے جبکہ وفد میں سینئر نائب صدر عبدالقیوم اعوان چیف آرگنائزر خالد محمود چودھری، ڈپٹی سیکرٹری جنرل عدنان شکور و دیگر بھی موجود تھے۔ ملاقات میں مزدوروں کے مسائل اور ادارے کی ترقی کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شیخ محمد انور نے وفاقی وزیر ریلوے کو وزارت سنبھالنے کے بعد 100 دن کی کارکردگی اور ریلوے میں متعارف کرائی گئی مثبت اصلاحات پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے کا وقار اور ملازمین کا اعتماد بحال کرنے کی سمت میں وزیر ریلوے کے اقدامات لائق تحسین ہیں شیخ انور نے دورانِ ملاقات ریلوے ملازمین کو درپیش سنگین مسائل، خصوصاً تنخواہوں میں تاخیر 2019ء سے بند TA اور ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی فوری ادائیگی کی جانب توجہ مبذول کروائی جس پر وزیر ریلوے نے ان تمام امور پر مکمل تعاون کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ملازمین کے ان مسائل کا احساس ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ ان شاء اللہ تنخواہوں اورپنشن کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جا رہا ہے آئندہ ملازمین کو مقررہ تاریخوں میں تنخواہیں ملیں گی ۔ٹی اے کی ادائیگی کیلئے بھی مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں کوشش کررہے ہیں کہ وزیراعظم سے ا سپیشل فنڈز منظور کروائے جائیں۔ شیخ محمد انور نے کوئٹہ اور بلوچستان کی عوام کی احساس محرومی دور کرنے اور سفری سہولیات کے لیے بلوچستان سے بند کی گئی ٹرینوں خصوصاً اکبر بگٹی ایکسپریس کی بحالی کا مطالبہ بھی کیا۔ وزیر ریلوے نے وفد کو بتایا کہ 15 مارچ کو پریم یونین کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات میں شامل ایم ایل 2 کی واحد ٹرین خوشحال خان خٹک،لاہور تا وزیرآباد براستہ نارووال سیالکوٹ ٹرین کی بحالی، موسیٰ پاک ملتان سے ڈی جی خان تک توسیع کی گئی ٹرینوں کا فیصلہ خوش آئند ہے میری کوشش ہو گی جلد ہی اکبر بگٹی ایکسپریس کو بھی بحال کر دیا جائے۔ شیخ محمد انور نے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ریلوے کے شعبے میں مربوط تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ خوش آئند امر ہے کہ دونوں سطحوں کی حکومتیں مل کر ریلوے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اہم پروجیکٹس پر کام کر رہی ہیں یہ اقدامات ریلوے کی ترقی اور عوام کو معیاری سفری سہولیات فراہم کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوں گی۔ وفاقی وزیر ریلوے نے پریم یونین کے ساتھ ریلوے اور ملازمین کے مسائل پر خصوصی تعاون کی یقین دہانی کروائی جس پر مرکزی صدر شیخ محمد انورنے محمد حنیف عباسی کو یقین دلایا کہ ادارے کے وسیع تر مفاد اور محکمہ ریلوے کی بہتری کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر پریم یونین وزیر ریلوے کے اقدامات کو سراہتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں گی۔ پریم یونین کے چیئرمین ضیا الدین انصاری ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے وزیر ریلوے کے مثبت رویے اور اعلانات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ پریم یونین/ ریلوے کا ہر مزدور اور افسر تمام علاقائی، لسانی، سیاسی تعصبات اور امتیازات سے بالاتر ہوکر صرف اور صرف پاکستان ریلوے کی بہتری اور اس کے ٹرین آپریشن کو بہتر سے بہتر اور معمول پر رکھنے کیلئے اپنے فرائض اور ذمے داریوں کو مقدم رکھتا ہے اور یہی ان کی اولین ترجیح ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پریم یونین کے وزیر ریلوے ریلوے کے

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری