بھارت میں پل درمیان سے ٹوٹ گیا؛ متعدد گاڑیاں دریا میں جا گریں، 10 ہلاکتیں
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
بھارتی ریاست گجرات میں پل کا ایک حصہ اس وقت گرگیا جب اس پر سے متعدد گاڑیاں گزر رہی تھیں جو دریا میں جا گریں۔
بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق ریسکیو آپریشن کے دوران اب تک دریا سے 10 لاشیں نکالی جا چکی ہیں اور صرف 3 کو بحفاظت نکالا جا سکا ہے۔
امدادی کام اب بھی جاری ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اب تک لاپتا افراد کی تعداد کا بھی معلوم نہیں ہوسکا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دریا بنے پر اس پل میں دراڑیں پر گئی تھیں اور بارش کے بعد سے پل کی حالت مزید خراب تھی۔
علاقہ مکینوں نے بتایا کہ پُل کی خستہ ھالی سے متعلق متعدد بار شکایتیں جمع کرائی گئیں لیکن کہیں کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔
وزیر اعلیٰ گجرات نے حادثے کی تحقیقات کا حکم دیدیا تاہم بھارت میں کرپشن اور اقربا پروری کے باعث ایسے کسی انکوائری کمیٹی کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔