data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی:امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے سندھ حکومت، پیپلز پارٹی اور متعلقہ اداروں کو آڑے ہاتھوں لیا اور کراچی میں بڑھتے مسائل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کی عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے بجائے صرف چالانوں اور دھمکیوں کا سامنا ہے، جس سے شہریوں کی تذلیل ہو رہی ہے۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی اس وقت بدترین صورتحال سے دوچار ہے، ٹرانسپورٹ کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے، سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں، پانی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور انفرااسٹرکچر مکمل تباہی کی تصویر پیش کر رہا ہے، اس کے باوجود پیپلز پارٹی کی کراچی دشمنی اور سندھ حکومت کی نااہلی، کرپشن اور بے حسی برقرار ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ صرف دو ماہ کے دوران کراچی میں موٹر سائیکل اور گاڑیوں کے 52 ہزار سے زائد چالان کیے گئے جب کہ شہر میں نہ ٹریفک سگنلز کام کر رہے ہیں، نہ زیبرا کراسنگ موجود ہیں اور نہ ہی فٹ پاتھ محفوظ ہیں، اس سب کے باوجود آئی جی غلام نبی میمن کی جانب سے جرمانے دگنے کرنے، لائسنس منسوخ کرنے اور شناختی کارڈ بلاک کرنے جیسے بیانات شہریوں کی تضحیک کے مترادف ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی کراچی نے اپنے مرکزی و ضلعی دفاتر میں شہریوں کی شکایات کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کر دیے ہیں جہاں ناانصافیوں کی شکایات درج کرائی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی نے رواں مالی سال میں 3 ارب 256 کروڑ روپے کا ٹیکس ادا کیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ ہے، اس کے باوجود شہر کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔

ٹرانسپورٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 17 سال میں سندھ حکومت نے کراچی جیسے میگا سٹی کے لیے صرف 300 بسیں فراہم کیں جب کہ صرف اعلانات کیے جاتے رہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہر میں کم از کم 1000 بسیں، لائٹ ریل اور سرکلر ریلوے جیسے منصوبے فوری شروع کیے جائیں۔

موٹر سائیکل سواروں کی مشکلات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں 45 لاکھ موٹر سائیکلیں چلتی ہیں، نوجوان ٹریفک قوانین کی پاسداری کریں، مگر کسی بھی زیادتی پر جماعت اسلامی ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔

منعم ظفر خان نے کے-4 منصوبے کی سست روی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کراچی کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، وفاق نے محض 3.

2 ارب روپے مختص کیے جب کہ اصل ضرورت 40 ارب روپے تھی، اگر منصوبہ 2026 تک مکمل ہو بھی جائے تو اس کی ترسیلی لائنوں کا کام ابھی تک شروع نہیں ہوا، جس کے لیے مزید دو سال درکار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت نے واٹر اینڈ سیوریج کے لیے 1.6 بلین ڈالر وصول کیے لیکن کوئی بڑا کام نظر نہیں آیا، واٹر بورڈ پر مکمل سیاسی قبضہ ہے، نالوں کی صفائی نہیں ہوئی، ٹاؤن چیئرمینز کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، اور کرپشن کی جڑیں بلدیاتی اداروں سے لے کر بلاول ہاؤس تک پھیلی ہوئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صرف چالانوں کی مد میں سندھ حکومت نے شہریوں سے 9.2 ارب روپے وصول کیے جب کہ ملک کے جاگیرداروں اور وڈیروں نے مجموعی طور پر صرف 4 ارب روپے ٹیکس ادا کیا، مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم، حکومت میں شامل ہیں لیکن کراچی کے حقوق اور مسائل پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی سندھ حکومت انہوں نے کہ کراچی ارب روپے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی