قطر میں غزہ جنگ بندی مذاکرات؛ حماس رہنماؤں کو ذاتی اسلحہ بھی حوالے کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
غزہ جنگ بندی پر اسرائیل اور ثالثوں سے مذاکرات کے لیے موجود حماس کی سینیئر قیادت کو اپنا ذاتی اسلحہ ساتھ لانے سے روک دیا گیا۔
اس بات کا دعویٰ برطانوی اخبار The Times نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کیا۔
حماس کے جن رہنماؤں کو ہتھیار رکھنے سے منع کیا گیا ان میں خلیل الحیہ (مذاکراتی وفد کے سربراہ)، ظاہر جبارین (مالی امور کے انچارج) اور محمد اسماعیل درویش (مذہبی کونسل کے سربراہ) شامل ہیں۔
اپنی حفاظت کے لیے ذاتی اسلحہ رکھنے سے روکنے کا فیصلہ امریکی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے تاکہ غزہ میں جنگ بندی معاہدہ طے پاسکے۔
یاد رہے کہ حماس خالد الحیہ کو اسرائیلی وزیر دفاع نے قتل کرنے کی دھمکی بھی تھی اور اب بھی ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
ایک سفارتی ذرائع نے عالمی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اس بار معاہدے کے امکانات کافی روشن ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیل کے حوالے سے سخت زبان نے حماس کو کچھ اعتماد دیا ہے کہ امریکہ معاہدے کی گارنٹی دے گا اور دوبارہ جنگ شروع نہیں ہونے دے گا۔
ادھر سعودی اخبار الاخبار کے مطابق حماس امریکی ضمانتوں کے موجودہ الفاظ سے مطمئن ہے۔
تاہم اسرائیلی حکومت کے ایک اہلکار نے کہا کہ ہم امریکی اور ثالثی کی گئی ضمانتوں کے پابند نہیں ہیں۔
حماس کی جانب سے غزہ جنگ بندی سے متعلق امریکی تجویز کا باضابطہ جواب جمعہ تک متوقع ہے۔
اگر معاہدہ طے پا گیا، تو یہ غزہ میں مہینوں سے جاری جنگ کے خاتمے کی طرف پہلا ٹھوس قدم ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔