Islam Times:
2026-06-03@07:16:24 GMT

فرشِ عزائے حسینؑ اور ہمارا یزیدی کردار

اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT

فرشِ عزائے حسینؑ اور ہمارا یزیدی کردار

اسلام ٹائمز: کل تک عزاداری میں ہمارے آباء و اجداد کی وہ رسومات جن کے ذریعے بچوں اور جوانوں کی تربیت کی جاتی تھی آج مِٹ چکی ہیں۔ پاک لباس، مجلس سے پہلے غسل، وضو، علم اٹھانے سے پہلے دو رکعت نماز ہدیہ، نذر و نیاز کے برتنوں میں پورا سال کچھ کھانے پکانے کی ممانعت اور پھر نذر کے جھوٹے برتنوں کا پانی بھی کیاریوں میں ڈالنا تاکہ بے حرمتی نہ ہو۔ فرش عزا کا اتنا تقدس کہ ہر بچہ با ادب آکر بیٹھ جاتا تھا اور اسے جرائت نہیں ہوتی تھی کہ اٹھ کر باہر چلا جائے وہ وہیں سو جاتا تھا لیکن بزرگوں کے احترام میں باہر نہیں جاتا تھا۔ تحریر: حجت الاسلام یوشع ظفر حیاتی
قم المقدسہ
محرم الحرام 1447 ہجری

گزشتہ ایام میں عجیب، افسوس ناک، کریہہ و شرمناک واقعات دیکھنے اور سننے کو ملے کہ دردِ دل بیان کرنا ناگزیر ٹھیرا۔ کہیں فرش عزا پکنک پوائنٹ بنا ہوا ہے۔ کہیں جلوس عزا عشق و محبت کا سنگم بن چکا ہے تو کہیں ایسی خرافات عزاداری کے نام پر سامنے آرہی ہیں کہ جس پر انسانیت شرم سے پانی پانی پانی ہورہی ہے۔ مجھے یہ واقعات دیکھ کر بس قوم بنی اسرائیل یاد آئی کہ جن کا امام وقتی طور پر موجود نہیں اور نائبِ امام کی بات قوم نے سننی نہیں ہے۔ قوم پر ایسا سامری مسلط ہے جو قوم کے سرمایہ داروں سے بھاری رقوم نکلوا کر (اینٹھ کر) گوسالہ بنا رہا ہے اور اب خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت کے بجائے صرف اسی گوسالے کی پرستش ہونی ہے جو دکھنے میں سنہرا ہے اور اس پر بہت سارا پیسہ لگ چکا ہے (خبردار کوئی اسے ذاکرین سے تشبیہ نہ دے)۔

ان خرافات کے سامنے قوم کا باشعور طبقہ اور امام کا نمائندہ اتنا بے بس ہے کہ دن رات خون کے آنسو رو رہا ہے اور کچھ نہیں کرسکتا کیونکہ پورا سسٹم، سرمایہ دارانہ نظام اور جاھل عوام اسکے خلاف کھڑی ہے۔ ہم وہ مردہ اور بے حس قوم بن چکے ہیں جس نے اپنے مذہب کی سب سے زیادہ اہم اور حساس عبادتوں اور عزاداریوں کو بھی نہیں چھوڑا اور اس کا تقدس اپنے شہوت پرستانہ رویہ سے تاراج کرکے رکھ دیا ہے۔ کیا مقصدِ قیامِ امامِ عالی مقامؑ اتنا حقیر تھا کہ اسے سوشل میڈیا کے سورما اپنی نفسانی و دنیاوی اہداف کی تکمیل کے لئے استعمال کریں اور ان کو لگام دینے والا کوئی نہ ہو؟ یا اسکی ترویج کا ذمہ غیر اٹھائیں اور ہم محض حسینیت کا جھوٹا بھرم رکھیں اور باطن میں یزید کو بھی زندہ رکھیں؟

کل تک عزاداری میں ہمارے آباء و اجداد کی وہ رسومات جن کے ذریعے بچوں اور جوانوں کی تربیت کی جاتی تھی آج مِٹ چکی ہیں۔ پاک لباس، مجلس سے پہلے غسل، وضو، علم اٹھانے سے پہلے دو رکعت نماز ہدیہ، نذر و نیاز کے برتنوں میں پورا سال کچھ کھانے پکانے کی ممانعت اور پھر نذر کے جھوٹے برتنوں کا پانی بھی کیاریوں میں ڈالنا تاکہ بے حرمتی نہ ہو۔ فرش عزا کا اتنا تقدس کہ ہر بچہ با ادب آکر بیٹھ جاتا تھا اور اسے جرائت نہیں ہوتی تھی کہ اٹھ کر باہر چلا جائے وہ وہیں سو جاتا تھا لیکن بزرگوں کے احترام میں باہر نہیں جاتا تھا۔ 

حدیث کساء کی آواز آتے ہی فرش عزا عزاداروں سے بھر جاتی تھی۔ سادہ انداز میں سوز و سلام اور مرثیے، انتہائی علمی شخصیات کی خطابت اور روایتی نوحہ خوانی دلوں کو چیر کر رکھ دیتی تھی پھر تبرک میں انتہائی سادہ اور کم قیمت تبرکات بانٹے جاتے تھے چونکہ ہدف یہ تھا کہ عزاداری من حیث عبادت قائم و دائم رہے اور اسکا تقدس برقرار رہے۔ ہر محلے میں ایک انتہائی معزز اور دین دار شخصیت ان عزاداریوں کی رونق ہوتی تھی جن کا وجود برکت کی علامت ہوا کرتا تھا، لیکن آج نہ پاکی ناپاکی کا خیال نہ تقدس کا تصور، سوز اور نوحہ خوانوں کی جگہ بھانڈ مراثیوں نے، علمی شخصیات کی جگہ کم علم، فتنہ گر، اداکاروں نے ہتھیا لی ہے جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ عزاداری ایک میلہ بن کر رہ گئی ہے۔ 

ہمارے اجداد کا خلوص اور جذبہ جس میں اللّہ کا کرم اور معصومین علیہم السلام کی سرپرستی جھلکتی تھی آج وہ ناپید ہو چکا ہے۔ وہ عزاداری جو ہمارے بچوں کی درس گاہ تھی اب شیطان سے نزدیک لانے کا کردار ادا کررہی ہے۔ ہم نے ہمیشہ اس بات پہ فخر کیا کہ ہماری نسل کی تربیت فرشِ عزا پہ ہوتی ہے کیا آج بھی ہم فخریہ اس بات کا پرچار کر سکتے ہیں؟ تقوی، عزت، شجاعت، صداقت، فہم و شعور، اور دینداری کی جگہ ہمارے بچے آج کی رائج عزاداری سے بے دینی، فحاشی، جھوٹ، شہرت کی ہوس، بے شعوری اور ہوس پرستی کی تربیت حاصل کررہے ہیں۔

ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے ایک دوسرے کا انتظار کررہے ہیں کہ کوئی اٹھے تو پھر فیصلہ کریں گے کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ ہاں ایسا بھی نہیں کہ پورا معاشرہ یکسر خرافات کا شکار ہے بلکہ ابھی اگلی شرافت کے نمونے پائے جاتے ہیں کا مصداق بہت سارے افراد موجود ہیں جو اس عزاداری کے تحفظ کے لئے دن رات کوشاں ہیں اور خون دل رو رہے ہیں۔ لیکن ان کی حیثیت بس نقار خانے میں طوطی کی آواز جتنی ہی نظر آرہی ہے۔

ظاہر ہے جہاں دین کے نام پر دینی اصطلاحات استعمال کرکے دین کے خلاف محاذ کھڑا کیا جائے اور محاذ بھی ایسا جس میں دنیا کی ہر رنگینی موجود ہو تو وہاں کسی باشعور فرد کی بات کہاں سنی جاتی ؟ ہم ایسے شش و پنج میں گرفتار ہوچکے ہیں کہ یہ سب کچھ دیکھ کر افسوس سے بیٹھے بیٹھے تھوک بھی رہے ہیں لیکن عملی اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے ہمارے چہروں پر خود ہمارا اپنا ہی تھوک پلٹ کر واپس آرہا ہے۔ قافلہِ حسینی آج بھی ہمارا منتظر ہے لیکن ہم رستہ بھٹکتے جا رہے ہیں۔ قریب ہے کہ ہم اپنے غیر کو اپنا ہادی و رہبر مان کے اپنے ہی امام کے مدِ مقابل کھڑے ہوں۔

فاعتبروا یا اولی الابصار

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کی تربیت جاتا تھا رہے ہیں سے پہلے ہیں کہ ہے اور اور اس

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان