مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلسازی کا بڑا واقعہ، امریکی وزیر خارجہ بن کر 5 اہم شخصیات سے رابطے
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
امریکی وزارتِ خارجہ نے انکشاف کیا ہے کہ ایک نامعلوم شخص یا گروپ نے مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کرتے ہوئے امریکا کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی نقل کی، اور کم از کم 5 اہم حکومتی شخصیات سے رابطہ کیا۔ ان اہلکاروں میں 3 غیر ملکی وزرائے خارجہ، ایک امریکی گورنر، اور ایک رکنِ کانگریس شامل ہیں۔
وزارتِ خارجہ کی ایک خفیہ رپورٹ کے مطابق، یہ واقعہ جون کے وسط میں پیش آیا۔
رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ذریعے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی نقل کرنے والے افراد نے ٹیکسٹ اور وائس پیغامات کے ذریعے ان اعلیٰ حکومتی اہلکاروں سے رابطہ کیا۔ ایک پیغام میں ان سے ’سگنل‘ ایپ پر بات کرنے کی درخواست کی گئی، اور بعض اہلکاروں کو مصنوعی طور پر تیار کردہ وائس پیغامات بھی بھیجے گئے
۔ اس جعل سازی کے دوران بھیجے جانے والے پیغامات میں [email protected] نام کا ایک نقلی ای میل ایڈریس شامل تھا، جو حقیقت میں کوئی فعال ای میل ایڈریس نہیں تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ جعل سازی کا مقصد ان شخصیات کے ذریعے حساس معلومات یا اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنا ہو سکتا ہے۔ اس واقعہ کو امریکی وزارتِ خارجہ کی سائبر سیکیورٹی کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے سگنل میسجنگ ایپ کیا ہے، یہ کتنی محفوظ ہے؟
سیگنل ایپ کیا ہے؟سگنل ایک معروف ایپ ہے جو اپنے محفوظ پیغامات کے لیے مشہور ہے، اور اس پر پیغامات بھیجنا یا بات چیت کرنا عام طور پر زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے لیکن جب اس ایپ کا استعمال دھوکہ دہی کے لیے کیا جائے تو یہ سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
اس جعل سازی کے معاملے کی نوعیت ’سگنل گیٹ‘ واقعے جیسی ہے، جس میں سابق امریکی حکومتی عہدیداروں نے ایک خفیہ گروپ چیٹ میں حساس فوجی آپریشنز پر بات کی تھی۔ مزید برآں، اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ مئی میں ایف بی آئی نے ایک اور واقعہ کی تحقیقات کی تھی، جس میں کسی نے امریکی صدر کے چیف آف اسٹاف، سوسی وائلز کی نقل کرنے کی کوشش کی تھی۔
امریکی وزارتِ خارجہ کا ردِعملوزارتِ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے اس جعل سازی کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ادارہ اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنی معلومات کی حفاظت کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے مسلسل اپنی سائبر سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے اقدامات کر رہے ہیں۔
وزارتِ خارجہ نے اپنے تمام داخلی اور خارجی سفارتی دفاتر کو اس معاملے سے آگاہ کرتے ہوئے حکام کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایسے دھوکہ دہی سے ہوشیار رہیں۔
یہ بھی پڑھیے امریکی سیکریٹری دفاع پر دوسری بار یمن حملوں سے متعلق خفیہ معلومات سگنل پر شیئر کرنے کا الزام
ماہرین اس واقعے کو ایک تنبیہ کے طور پر محسوس کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت اور وائس کلوننگ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے سائبر سیکیورٹی کے نئے چیلنجز پیدا کیے ہیں۔ اس معاملے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اعلیٰ حکومتی اہلکاروں کے ساتھ رابطے میں ہونے والی کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کو فوراً شناخت کرنا اور اس پر قابو پانا بہت ضروری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آرٹیفیشل انٹیلیجنس امریکی وزیر خارجہ سگنل ایپ مارکو روبیو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا رٹیفیشل انٹیلیجنس امریکی وزیر خارجہ سگنل ایپ مارکو روبیو مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا ہے کے لیے
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔