مصنوعی ذہانت اور ملازمتوں کا مستقبل: خطرہ، تبدیلی یا موقع؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
مصنوعی ذہانت کی ترقی دنیا بھر میں محنت کی دنیا کو اسی طرح بدل رہی ہے جیسے صنعتی انقلاب نے کیا تھا، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اب صارف خدمات، قانون، مالیات، تخلیقی فنون اور دیگر شعبوں میں کام کے انداز کو بدل رہی ہے۔
گولڈمین زاکس کی 2023 رپورٹ کے مطابق، جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے 2030 تک عالمی جی ڈی پی میں 7 فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ، کروڑوں نوکریاں ختم یا تبدیل ہو سکتی ہیں، خاص طور پر وہ جو دہرانے والے اور قاعدہ و ضابطہ پر مبنی کاموں پر مشتمل ہیں۔
سیم آلٹمین کی پیش گوئیاوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی ترقی کو ’ایک نیا موڑ‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اب کئی میدانوں میں انسانی سطح کی کارکردگی سے بڑھ کر کام کر رہی ہے، جو روزگار کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
کن شعبوں میں نوکریاں خطرے میں ہیں؟اینتھروپک کمپنی کے مطابق، اگلے پانچ سالوں میں ابتدائی دفتری ملازمتوں کا 50 فیصد حصہ خودکار نظاموں سے ختم ہو سکتا ہے، خطرے سے دوچار کاموں میں ڈیٹا انٹری، کسٹمر سروس، ترجمہ اور سب ٹائٹلنگ، گوداموں کا جسمانی کام اور میڈیا اور تخلیقی کام شامل ہیں۔
نئے روزگار کے مواقعآرٹیفیشل انٹیلیجنس صرف نوکریاں ختم نہیں کر رہا بلکہ نئے پیشوں کو بھی جنم دے رہا ہے، جن میں پرومپٹ انجینئرز یعنی درست جوابات کے لیے مؤثر سوالات تیار کرنے والے ماہرین، تربیتی ڈیٹا کے معیار اور تنوع کو یقینی بنانے والے افراد یعنی ڈیٹا کیوریشن ماہرین، ماڈل بائس آڈیٹرز کی جانبداری جانچنے والے ماہرین، آرٹیفیشل انٹیلیجنس آپریشنز ٹیکنیشنز یعنی نظاموں کو چلانے اور بہتر بنانے والے ٹیکنیکل ماہرین۔
اسی طرح سنتھیٹک میڈیا ڈیزائنرز کے ذریعے تخلیقی مواد تیار کرنے والے فنکار بھی اسی قبیل میں شمار کیے جاتے ہیں، آرٹیفیشل انٹیلیجنس صرف بدلتا نہیں، سہارا بھی دیتا ہے، بہت سی جگہوں پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس انسانی کام کو بہتر بنا رہا ہے۔
اس ضمن میں کاپی رائٹرز اب ابتدائی ڈرافٹ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنوا کر زیادہ تخلیقی پہلوؤں پر توجہ دیتے ہیں، ایم آئی ٹی اور اسٹین فورڈ کی تحقیق کے مطابق، کسٹمر سروس میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس اسسٹنٹس نے پیداوار میں 14 فیصد اضافہ کیا، اور نئے ملازمین کی کارکردگی میں 34 فیصد اضافہ ہوا۔
بلیو کالر ملازمتیں اور تخلیقی شعبے بھی متاثرلاجسٹکس آرٹیفیشل انٹیلیجنس روبوٹس گوداموں میں کام سنبھال رہے ہیں، میڈیا اور ترجمہ کے شعبے میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی سب ٹائٹلنگ اور ترجمے انسانی ماہرین کی جگہ لے رہے ہیں۔
ریٹیل اور ترسیل کے شعبے میں خودکار اسکینرز اور ڈیلیوری بوٹس کا استعمال بڑھ رہا ہے، اسی طرح فنون کے شعبے میں اسکرپٹ رائٹنگ، موسیقی، گیم ڈیزائن اور ڈیجیٹل آرٹ میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال ہو رہا ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا شعبہ وار اثرصحت عامہ کے شعبے میں تشخیص، میڈیکل امیجنگ، اور دفتری کاموں میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس مددگار ہے، اسی طرح قانون کے شعبے میں دستاویزات کا تجزیہ اور مقدمات کی تحقیق اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے ہو رہی ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس ذاتی نوعیت کی تعلیم اور گریڈنگ میں معاون ہے، اسی طرح فراڈ کی شناخت اور آڈٹ میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس انسانی تجزیہ کاروں کی جگہ لے رہا ہے۔
انسانی ردعمل: نئی مہارتوں کی ضرورتتجزیہ کاروں کے مطابق، جو لوگ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ساتھ کام کرنے کی مہارتیں سیکھیں گے، وہ بہتر کارکردگی دکھا سکیں گے، نرم مہارتوں، فیصلے کی صلاحیت، اور جذباتی ذہانت پر مبنی پیشے نسبتاً محفوظ رہیں گے۔ حکومتیں اور ادارے اب پرومپٹ انجینیئرنگ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی اخلاقیات، اور ڈیٹا لٹریسی کی تربیت فراہم کر رہے ہیں۔
میکنزی کی رپورٹ کے مطابق، 2030 تک دنیا بھر میں تقریباً 10 کروڑ افراد کو اپنا پیشہ تبدیل کرنا پڑ سکتا ہے، اس تبدیلی سے نمٹنے کے لیے کئی ممالک پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے تحت ’ری اسکلنگ‘ پروگرام شروع کر رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آرٹیفیشل انٹیلیجنس سنتھیٹک میڈیا ڈیزائنرز سیم آلٹمین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا رٹیفیشل انٹیلیجنس سیم آلٹمین میں ا رٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے میں کے مطابق رہے ہیں کے لیے رہی ہے رہا ہے
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔