ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کا سلسلہ جاری، 1لاکھ 40ہزار سے زائد شہری مستفید
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 جولائی2025ء) ڈی آئی جی ٹریفک محمد وقاص نذیر کے احکامات پر ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کا سلسلہ جاری، صوبہ بھی میں 1لاکھ 40ہزار سے زائد شہریوں نے سہولیات سے استفادہ کیا۔ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق گزشتہ ہفتے میں 50ہزار سے زائد شہریوں نے لرننگ لائسنس بنوائے،گزشتہ ہفتے میں43ہزار سے زائد شہریوں نے ریگولر لائسنس بنوائے۔
(جاری ہے)
44ہزار سے زائد شہریوں نے لرننگ ریگولر ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید کروائی، گزشتہ ہفتے میں 1100سے زائد شہریوں کو انٹر نیشنل ڈرائیونگ پرمٹ جاری کیے گئے۔رواں ماہ 25ہزار سے زائد شہریوں نے گھر بیٹھے آن لائن لائسنسنگ پورٹل سے استفادہ کیا۔ڈی آئی جی ٹریفک محمد وقاص نذیر نے کہا کہ بغیر لائسنس ڈرائیونگ کرنے والوں کے خلاف کریک ڈائون جاری رہے گا، بغیر ڈرائیونگ لائسنس گاڑی و موٹر سائیکل چلانا جرم ہے۔ بھاری جرمانوں اور قانونی کاروائیوں سے بچنے کے لییشہری فوری اپنا ڈرائیونگ لائسنس بنوائیں۔ شہری ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے لیے خدمت مراکز لائسنسنگ سینٹر آن لائن لائسنسنگ پورٹل سے فائدہ اٹھائیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سے زائد شہریوں نے ڈرائیونگ لائسنس
پڑھیں:
پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔
تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:
البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔
’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4 ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘
مزید پڑھیں:
گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
’اگر ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘
ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔
گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔
’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز