جعلی مارکو روبیو کا اسکینڈل: امریکی و غیر ملکی حکام کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے دھوکا دینے کی کوشش
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ ایک جعلساز نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا روپ دھار کر اعلیٰ امریکی و غیر ملکی حکام سے رابطے کیے، یہ رابطے مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ آڈیو اور تحریری پیغامات کے ذریعے کیے گئے، جن میں مارکو روبیو کی آواز اور تحریری انداز کی ہو بہو نقل کی گئی۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق امریکی اخبار نے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک سرکاری کیبل اور ایک سینیئر اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ اس جعلساز نے کم از کم تین غیر ملکی وزرائے خارجہ، ایک امریکی گورنر اور ایک رکنِ کانگریس سے رابطہ کیا، ان تمام شخصیات کو پیغامات “مارکو روبیو” کے نام سے سگنل ایپ اور ٹیکسٹ میسیجز کے ذریعے بھیجے گئے۔
اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کرے گا اور مستقبل میں ایسے حملوں سے بچاؤ کے لیے سائبر سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، حکام نے ان افراد کے نام ظاہر نہیں کیے جنہیں ان پیغامات کا نشانہ بنایا گیا اور یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ آیا کسی اہلکار نے ان پیغامات کا جواب دیا یا نہیں۔
مارکو روبیو کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ سرکاری کیبل میں امریکی سفارتکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی مشکوک رابطے یا جعلسازی کی کوشش کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دی جائے۔
خیال رہےکہ یہ سلسلہ جون کے وسط میں شروع ہوا، جب جعلساز نے [email protected]” کے نام سے سگنل پر ایک اکاؤنٹ بنایا اور اس کے ذریعے مختلف سیاستدانوں اور سفارتکاروں کو مخاطب کیا، 3 جولائی کو اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو ارسال کردہ ایک کیبل میں کہا گیا کہ تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کوششوں کے پیچھے کون ہے؟ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کا مقصد بااثر حکام کو دھوکہ دے کر معلومات یا حساس اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنا تھا۔
واضح رہے کہ امریکا میں کسی وفاقی افسر یا سرکاری ملازم کا روپ دھار کر کسی بھی قسم کا فائدہ حاصل کرنا ایک قابلِ سزا جرم ہے۔
یاد رہےکہ یہ واقعہ امریکا میں حالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے اعلیٰ عہدے داروں کا روپ دھارنے کی بڑھتی ہوئی کوششوں کا ایک اور مظہر ہے، رواں سال مئی میں بھی وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز کے فون کو ہیک کر کے درجنوں سینیٹرز، گورنرز اور کاروباری افراد کو جعلی پیغامات بھیجے گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مارکو روبیو کے ذریعے
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔