data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر)نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا ہے کہ اس وقت مسلمانوں کو جس بڑے چیلنج کا سامنا ہے وہ یہودی لابی کا پوری قوت سے اسلام کے خاتمے کے لیے فتنہ و فساد پھیلانے اور گریٹر اسرائیل کے ایجنڈے پر کام کرنا ہے، اسرائیل نے گزشتہ تقریباً2 سال سے فلسطین میں دہشت گردی وظلم و ستم اور قتل عام جاری رکھا ہوا ہے، امریکی حمایت یا فتہ بھارت نے پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کے ساتھ سرحدوں پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش میں منہ کی کھائی جبکہ اسرائیل اور امریکا کو بھی ایران پر حملہ آور ہو نے کے بعد ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، امریکا اور یہودی لابی خواہ کتنی ہی کوشش کرلے انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ مومن بزدل نہیں ہوتا اس کا قلب ایمان کی روشنی سے منور ہوتا ہے،اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ضلع گڈاپ کے زیر اہتمام جامع مسجد ابو حذیفہ میں منعقد ہ کارکنان کی ایک روزہ تربیت گاہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علاوہ ازیں ضلع گلبرگ وسطی کے تحت مسجد قبا فیڈرل بی ایریا اور علاقہ گلستان جوہر ضلع شرقی میں بھی تربیت گاہوں کا انعقادکیا گیا ، جن سے ڈپٹی سیکرٹری جماعت اسلامی شیخ عثمان فاروق ، امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر ، سابق نائب امرا جماعت اسلامی راشد نسیم ، معراج الہدیٰ سمیت دیگر رہنمائوں نے بھی خطاب کیا ۔ ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہم اس وقت جہاں کھڑے ہیں علاقائی سیاست سے آگاہی بھی وقت کا تقاضا ہے۔علاقائی سیاست قومی سیاست سے مربوط ہے۔ ہماری قومی سیاست میں ہمارا یہ حال ہے ہم غزہ میں جاری قتل عام کے خلاف اسلام آباد اور پارلیمنٹ میں احتجاج نہیں کرسکتے جبکہ برطانوی پارلیمنٹ اور وہاں کے وزیر اعظم کے گھر کے باہر احتجاج کیا جاسکتا ہے، اس وقت غزہ میں جو قتل عام کیا جا رہا ہے وہ دوسری جنگ عظیم سے بھی زیادہ ہے، پاکستان کا آئین کہتا ہے کہ حاکمیت اعلیٰ صرف اللہ کے پاس ہے، اس وقت ہمیں پختہ ایمان اور قرآن کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنا ہے یہی وقت کا اولین تقاضا ہے۔ ڈاکٹر عطا الرحمن نے کہا کہ قرآن مجید فرقان حمید محض ذریعہ ہدایت نہیں بلکہ دعوت انقلاب بھی ہے، یہ کلام الٰہی کا معجزہ ہی ہے تھا کہ جہالت و گمراہی کے اندھیرے میں ڈوبے لوگوں کے دل قرآن کے نور ہدایت سے لبریز ہونے کے بعد سرزمین عرب کے باشندوں کی زندگی اور ان کاطرز معاشرت قرآنی تعلیمات کے مطابق ڈھل گیا یہ بہت بڑا انقلاب تھا جس نے معاشرے سے جہالت، ظلم،جنگ و جدل، ناانصافی و بے حیائی کا خاتمہ کیا، دنیا میں رائج ظلم و زیادتی، ناانصافی، بدامنی و بدیانتی کے نظام کو قرآن کے نظام عدل کے قیام کے ذریعے ہی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ قرآن مجید روح اور جسم دونوں کے امراض کا شافی علاج ہے،معاشرے میں پھیلے برائی کے طوفان کا مقابلہ قرآنی ہدایات پر انفرادی و اجتماعی عمل یعنی قرآن کے نظام کے نفاذ سے ہی ممکن ہے۔ شیخ عثمان فاروق نے کہا کہ پاکستان کا سب سے زیادہ کماؤ اور مرکزی شہر اس وقت زبوں حالی کا شکار ہے کسی صوبائی اور وفاقی حکومت نے اس شہر کو اس کا جائز حق تک نہیں دیا ، کراچی کے پیکج کے اعلانات صرف اعلانات ثابت ہوئے اور کراچی کو کبھی کچھ نہ ملا، وہ شہر جو کبھی میٹروپولیٹن سٹی روشنیوں کو شہر تھا آج انتہائی پسماندگی کا شکار ہے۔موجودہ حکومت عوام کی منتخب کردہ نہیں بلکہ عوام پرمسلط کردہ نااہل افراد کا ٹولہ ہے۔ ہم ایسی حکومت سے کسی خیر کی توقع نہیں کرسکتے، عوام کسی بھی ملک یا قوم کی طاقت ہوتے ہیں لیکن یہاں عوام کے حقوق سلب کرکے انہیں مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا دیا گیا ہے عوام کو اپنی طاقت پہچان کر اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے اور اٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے جماعت اسلامی پورے ملک میں عوام کی آواز بنی ہے اور جماعت اسلامی ہی وہ واحد جماعت ہے جو ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد میں مصروف ہے ،کارکنان کو اس جدوجہد میں اپنا بھرپور حصہ ڈالنا ہے۔منعم ظفر خان نے تربیت گاہ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دعوتِ دین کا پیغام ہر گلی، ہر بستی اور ہر دل تک پہنچانا ہماری اولین ترجیح ہے، کراچی کو اس کی اصل شناخت، عدل، ترقی اور دیانت داری کی طرف لانے کے لیے بھرپور عوامی جدوجہد کی ضرورت ہے۔جماعت اسلامی کی حقوق کراچی تحریک کو مزید تیز اور منظم کیا جائے گا ، عوام کی خدمت ، مسائل کے حل کی جدو جہد اور کراچی کے ساڑھے 3 کروڑ عوام کے جائز اور قانونی حقوق کے حصول کی جدو جہد جاری رہے گی ۔نیز جماعت اسلامی پورے شہر میں بننے والے لاکھوں ممبران کو عوامی کمیٹی میں جماعت اسلامی کے نام سے منظم کرے گی ۔

جماعت اسلامی ضلع گڈاپ اور ضلع گلبرگ وسطی کے تحت تربیت گاہوں سے مرکزی نائب امراء ڈاکٹر اسامہ رضی ، ڈاکٹر عطاء الرحمن ، مرکزی اسسٹنٹ سیکرٹری شیخ عثمان فاروق ، امیر کراچی منعم ظفر خان ، امیر ضلع گلبرگ وسطی کامران سراج ، امیر ضلع گڈاپ عرفان احمد خطاب کررہے ہیں

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی نے کہا

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم