خیبر پختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستیں لینے کیلئے ایک اور جماعت عدالت پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز نے کے پی میں مخصوص نشستیں حصہ کے مطابق لینے کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا جس پر عدالت نے الیکشن کمیشن کے خلاف دائر درخواست کو کل سماعت کیلیے مقرر کرلیا۔ اسلام ٹائمز۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پاکستان تحریک انصاف کی مخصوص نشستیں سیاسی جماعتوں میں تقسیم کردی گئیں ہیں۔ اب خیبر پختونخوا کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے ایک اور سیاسی جماعت اپنا حصہ مانگنے کیلیے اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئی ہے۔ پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز نے کے پی میں مخصوص نشستیں حصہ کے مطابق لینے کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا جس پر عدالت نے الیکشن کمیشن کے خلاف دائر درخواست کو کل سماعت کیلیے مقرر کرلیا۔
جسٹس انعام امین منہاس کل درخواست پر سماعت کریں گے، پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز نے الیکشن کمیشن کا 5 اپریل کا نوٹیفکیشن چیلنج کیا اور استدعا کی ہے کہ الیکشن کمیشن کو چار مارچ کا نوٹیفکیشن درست کرنے کا حکم دیا جائے۔ پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز کو ان کے حصہ کے مطابق کے پی میں مخصوص نشستیں دی جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز میں مخصوص نشستیں الیکشن کمیشن
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔