امریکا کے جدید A-10 بمبار طیارے مشرق وسطیٰ میں تعینات
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
ابوظبی: امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے A-10 تھنڈر بولٹ طیاروں کو مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں فضائی نگرانی کے لیے تعینات کر دیا ہے، تاکہ خطے میں سکیورٹی اور اسٹریٹیجک مفادات کی نگرانی کی جا سکے۔
یہ طیارے امریکا کی طرف سے ان علاقوں میں اعلیٰ فضائی موجودگی برقرار رکھنے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں فوری ردعمل کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ A-10 تھنڈر بولٹ اپنی پائیداری اور زمینی حملوں میں مہارت کی وجہ سے مشہور ہے۔
امریکی سینٹ کام مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں 21 ممالک پر مشتمل علاقے میں دفاعی، انٹیلی جنس اور سکیورٹی کارروائیوں کا ذمہ دار ہے، جن میں ایران، افغانستان، پاکستان، سعودی عرب، امارات، قطر اور مصر جیسے اہم ممالک شامل ہیں۔
سینٹ کام کا خصوصی فوکس بحیرہ احمر، اسٹریٹ آف ہرمز اور سوئز کینال جیسے حساس اور اسٹریٹیجک سمندری راستوں پر ہے، جہاں سے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل گزرتی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا ہیڈکوارٹر فلوریڈا، امریکا میں واقع ہے، جبکہ اس کا فارورڈ آپریشنل بیس قطر میں قائم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔ ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایران کے معاملے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ سینیٹ میں پیشی کے موقع پر کوری بُکر نے کہا کہ آخر امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے۔؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے کہا کہ ڈیل بھی ایسی جسے خود امریکا ہی پہلے کچرے کے ڈبے میں پھینک چکا تھا۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی ہوئی ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔
ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی میٹنگز ایک مہینہ، دو مہینے یا تین مہینوں تک بھی چل سکتی ہے۔ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تلفی کے حوالے سے مذاکرات کا عہد کرنا ہوگا۔ مارکو روبیو کے مطابق آج ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے جن پہلووں پر بات کرنے کو راضی ہوگیا ہے، پہلے ان پر انکاری تھا۔