بھارت کا رافیل طیاروں کے پائلٹس سمیت 4 پائلٹس مارے جانے کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (جسارت نیوز) آپریشن سندور کے دوران ہلاکتوں کو تسلیم نہ کرنے کے بعد شدید اندرونی دباؤ کے باعث بھارتی فوج نے ہلاک بھارتی فوجیوں کو اعزازات دینے کا فیصلہ کرلیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارت کے آپریشن سندور میں بھارتی افواج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا تاہم بھارتی حکومت اور افواج ہزیمت سے بچنے کیلئے اسے چھپاتی رہیں، فوجیوں کے مرنے کے بعد اعزاز دینے کا فیصلہ ہوا تو ان کی ہلاکت کا اعتراف سامنے آیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق مصدقہ اطلاعات کے مطابق صرف ایل او سی پر بھارتی فوج کی 250 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق جن ہلاک فوجیوں کو اعزازات دیے جائیں گے ان میں بھارتی فضائیہ کے4 پائلٹس بشمول 3 رافیل طیاروں کے پائلٹس اور آدم پور ائیربیس پر مارے گئے جدید دفاعی نظام ایس 400 کے 5 آپریٹرز بھی شامل ہیں۔سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ادھم پور ائیربیس بشمول ائیر ڈیفنس یونٹ پر ہلاک 9 فوجی اہلکاروں کو فوجی اعزاز دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ایوی ایشن بیس راجوڑی میں 2 اور اڑی سپلائی ڈپو کے او سی سمیت 4 ہلاک بھارتی فوجی بھی اعزازی فہرست کا حصہ ہیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک بھارتی فوجیوں کے لواحقین پر اپنے پیاروں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر نہ کرنے کا دباؤ ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارت نے اپنی ہزیمت چھپانے کے لیے فوجی نقصانات کو چھپایا اور آج بھی چھپا رہا ہے، مودی سرکار پٹھان کوٹ اور ادھم پور بیس پر نقصانات کی تردید کرتی رہی، بھارت نے فوج کی ہلاکتیں تسلیم نہیں کیں تو اب اندرونی دباؤ پر کیوں اعزازات دییجارہے ہیں؟بین الاقوامی میڈیا کے مطابق پٹھان کوٹ اور اْدھم پور سمیت پاکستان کے متعدد مؤثر حملوں کے بعد بھارت سیز فائر پر مجبور ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سکیورٹی ذرائع کے مطابق
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔