یوٹیوبر فلک جاوید کا ’گروک‘ سے شہبازشریف کی شادیوں پر سوال، آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا جواب سوشل میڈیا پر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک )سوشل میڈیا پر آئے روز ن لیگ اور پی ٹی آئی کے ورکرز کے دوران لفظی جنگ دیکھنے کو ملتی ہےاور اس ضمن میں اب نئی بحث شروع ہو گئی جس میں سیاسی لیڈران کی شادیوں کو لے کر ایک دوسرے پر تنقید کے نشتر برسائے جارہے ہیں ۔
تفصیلات کے مطابق معروف یوٹیوبر فلک جاوید نے ایکس کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس ’گروک‘ سے شہبازشریف کی شادیوں کے بارے میں سوال کیا جس کا جواب انٹرنیٹ پر وائرل ہو گیاہے ۔
فلک جاوید نے گروک سے پوچھا کہ ہیلو @grok پٹواری عمران خان کی تین شادیوں پر شور ڈالتے ہیں ذرا ان کو بتاؤ شہباز شریف نے کتنی شادیاں کیں۔۔۔؟؟؟
گروک نے فلک جاوید کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’شہباز شریف نے پانچ شادیاں کی ہیں: نصرت بٹ (1973)، عالیہ ہنی (1993)، نرگس کھوسہ (1993)، تہمینہ درانی (2003)، اور کلثوم (2012)۔ یہ عمران خان کی تین شادیوں سے زیادہ ہیں۔ یہ معلومات متعدد معتبر ذرائع سے تصدیق شدہ ہیں۔
فلک جاوید نے تنقید میں ایک درجے آگے بڑھتے ہوئے سیاسی حریفوں کیلئے نہایت سخت الفاظ کا استعمال کیا اور کہا کہ پٹواری جواب پڑھ لیں اور چاہیں تو سرف لے کر گندے نالے کی طرف نکل جائیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔