کترینہ کیف کی نجی تصاویر وائرل، مداح برس پڑے
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
بالی ووڈ کی معروف اداکارہ کترینہ کیف ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئیں جب ان کی مبینہ طور پر حاملہ ہونے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک آن لائن میڈیا پورٹل نے اداکارہ کترینہ کیف کی چند نجی تصاویر شیئر کی ہیں، جو مبینہ طور پر ان کے ممبئی کے اپارٹمنٹ کی بالکونی میں لی گئی ہیں۔
ان تصاویر میں کترینہ کیف کو ڈھیلے کپڑوں میں دیکھا جا سکتا ہے، جس پر قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ وہ اس وقت تین ماہ کی حاملہ ہیں۔
کترینہ کیف کی نجی تصاویر کے وائرل ہونے پر سوشل میڈیا صارفین نے حیرت کا اظہار کیا اور ان کی پرائیویسی کی خلاف ورزی پر شدید ردِعمل دیا۔ متعدد صارفین نے میڈیا پلیٹ فارمز سے مطالبہ کیا کہ ایسی ذاتی نوعیت کی تصاویر شیئر کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
اداکارہ سوناکشی سنہا نے بھی اس تصویر کے وائرل ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
یاد رہے کہ کترینہ کیف اور اداکار وکی کوشل حال ہی میں انسٹاگرام پر ایک پوسٹ کے ذریعے مداحوں کو خوشخبری سناتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ ان کے ہاں جلد ننھے مہمان کی آمد متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کترینہ کیف
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔