WE News:
2026-07-24@06:20:54 GMT

گروک: مصنوعی ذہانت کے ذریعے پاکستانی سیاست میں نئی جنگ

اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT

گروک: مصنوعی ذہانت کے ذریعے پاکستانی سیاست میں نئی جنگ

پاکستان میں مصنوعی ذہانت کی سیاست میں مداخلت اب محض تصور نہیں، بلکہ ایک فعال مظہر بن چکی ہے۔ xAI کے چیٹ بوٹ (گروک) کو پاکستانی صارفین، بالخصوص پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے حامی، تیزی سے ایک غیر رسمی سیاسی حوالہ بنانے لگے ہیں۔

یہ رجحان سماجی رابطوں کی ویب سائٹ X (سابقہ ٹویٹر) پر نمایاں طور پر نظر آتا ہے، جہاں روزانہ درجنوں صارفین گروک کو ٹیگ کر کے سیاسی سوالات کرتے ہیں اور اس کے جوابات کو اپنے نظریاتی بیانیے کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

گروک کے جوابات کو تنقیدی، مزاحیہ، یا جارحانہ انداز میں استعمال کرتے ہوئے، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بعض صارفین گروک کے جواب کو اپنی جماعت کے مخالفین کے خلاف دلیل کے طور پر لاتے ہیں، تو بعض اسے اپنی برتری کا ثبوت سمجھتے ہیں۔ اگرچہ الفاظ مختلف ہوتے ہیں، لیکن رجحان یکساں ہے: (گروک) کو ایک (ڈیجیٹل سچ) کی حیثیت دی جا رہی ہے، گویا وہ غیر جانبدار اور فیصلہ کن رائے دہندہ ہو۔

اس رجحان کی ٹیکنیکل جڑیں گروک جیسے چیٹ بوٹس کی تربیتی ساخت میں پیوست ہیں۔ گروک ایک (بڑا لسانی ماڈل) ہے جو انٹرنیٹ، خبروں، سوشل میڈیا اور متون کے مجموعے پر تربیت پاتا ہے۔

اس کے جوابات محض رٹے رٹائے نہیں، بلکہ پیچیدہ (الگورتھمز) اور مشین لرننگ کے اصولوں پر مبنی ترکیب ہوتے ہیں۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ماڈلز کبھی مکمل طور پر غیر جانبدار نہیں ہو سکتے۔

امریکی تحقیقی ادارے MIT Media Lab نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ بڑی زبان پر مبنی ماڈلز میں (contextual bias) یعنی سیاقی جانبداری عام ہے، جس کا تعلق صارف کے سوالات، موجودہ ڈیجیٹل بیانیے، اور ماڈل کے تربیتی ڈیٹا سے ہوتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر گروک کو مسلسل ایک طرف جھکاؤ رکھنے والے سوالات موصول ہوں، تو وہ جوابات بھی اسی رخ پر تشکیل دے سکتا ہے، چاہے وہ ارادی نہ ہوں۔

پاکستان کے تناظر میں یہ مسئلہ اور بھی اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ یہاں سیاسی تقسیم پہلے ہی شدید ہے۔ تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ نواز کے کارکن (گروک) کو بیانیہ سازی کے آلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اس بحث سے نمایاں طور پر غائب ہے۔

پیپلز پارٹی کی عدم موجودگی یا محدود شمولیت کی ممکنہ وجوہات میں سوشل میڈیا پر کم سرگرمی، (گروک) جیسے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز سے دوری، یا سیاسی ترجیحات کی مختلف نوعیت شامل ہو سکتی ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ (گروک) کی تربیت میں پیپلز پارٹی سے متعلق تازہ یا وائرل مواد کی کمی ہو، جس کی وجہ سے اس جماعت کے بارے میں جوابات یا تو کمزور ہوں یا غیر مرکزی۔

یہ رجحان صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ بھارت میں بھی 2024 کے انتخابات سے قبل کئی صارفین نے OpenAI اور Google Gemini جیسے چیٹ بوٹس سے نریندر مودی، کانگریس اور بی جے پی سے متعلق سوالات کر کے ان کے جوابات کو سیاسی مباحثے کا حصہ بنایا۔

امریکا میں صدارتی انتخابات کے دوران بھی یہ رجحان سامنے آیا کہ صارفین نے AI سے ڈونلڈ ٹرمپ یا جو بائیڈن کے بارے میں سوالات کر کے سکرین شاٹس سوشل میڈیا پر شیئر کیے۔

تاہم پاکستان میں جو بات اسے منفرد بناتی ہے، وہ یہ ہے کہ یہاں (گروک) کو نہ صرف ایک مذاق یا تجسس کے آلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، بلکہ ایک (عدالتی رائے) کے درجے پر رکھا جا رہا ہے، جو سیاسی جماعتوں کی سچائی یا جھوٹ پر مہر لگاتا ہے۔

اگر یہی رجحان جاری رہا، تو مستقبل میں سیاست، میڈیا، اور رائے عامہ کی تشکیل کے بنیادی تصورات بدل سکتے ہیں۔ روایتی صحافت، جو پہلے خبر کو تحقیق، تصدیق، اور تجزیے سے گزار کر پیش کرتی تھی، اب AI کے ایک جواب کو خبر کی شکل میں پیش کرنے لگے گی۔

سیاسی کارکن کسی بیانیے کو ثابت کرنے کے لیے لیڈر کا بیان نہیں بلکہ چیٹ بوٹ کا جواب پیش کریں گے۔ اور رائے دہندگان، جو پہلے خبرنامے یا اخبار کے تجزیے پر اعتماد کرتے تھے، وہ اب (گروک نے کیا کہا؟) پر اپنی رائے قائم کریں گے۔ یہ ایک نئی قسم کی (ڈیجیٹل رائے عامہ) کی تشکیل ہے، جہاں بیانیہ انسان نہیں، بلکہ (الگورتھم) بناتا ہے۔

یہ منظر ایک طرف مصنوعی ذہانت کی طاقت کا مظہر ہے، تو دوسری طرف معاشرتی خطرے کی علامت بھی۔ کیا ہم اس نظام کو آزاد چھوڑ سکتے ہیں، یا ہمیں اس پر اخلاقی و قانونی حدود لگانی ہوں گی؟ کیا سیاسی جماعتیں AI کے ساتھ ذمہ داری سے پیش آئیں گی، یا اسے ایک اور میدانِ جنگ میں بدل دیں گی؟ ان سوالات کا جواب اب دینا لازم ہے، کیونکہ ڈیجیٹل بیانیے کا یہ رجحان وقت کے ساتھ مزید گہرا اور فیصلہ کن ہوتا جا رہا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

طلحہ الکشمیری

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کے جوابات کے طور پر یہ رجحان کے جواب

پڑھیں:

امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز

امریکی سفارت خانے نے امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں ’لیٹ فریڈم رنگ‘ کے عنوان سے ’لبرٹی بیل‘ نمائش کا افتتاح کر دیا۔

نمائش میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 16 پاکستانی فنکاروں کے تیار کردہ منفرد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہر فنکار نے اپنے انداز میں ‘آزادی’ کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق

نمائش کا افتتاح لوک ورثہ میوزیم میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے مشترکہ طور پر کیا۔

پاکستانی فنکاروں نے ‘آزادی’ کی نئی تعبیر پیش کی

امریکی سفارت خانے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں امریکی مشن کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن نے اپنے ‘لنکن کارنرز’ نیٹ ورک کے ذریعے ترتیب دیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 16 فنکاروں کو شریک کیا گیا۔

Federal Minister for NH&C Aurangzeb Khan Khichi and U.S. Chargé d’Affaires Andy Halus on Thursday jointly inaugurated the “Let Freedom Ring” American Liberty Bell display at Lok Virsa Heritage Museum, celebrating the enduring cultural partnership between Pakistan & United States pic.twitter.com/3uqKCelXK9

— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) July 23, 2026

ہر فنکار سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ ’میرے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟ ’اس سوال کے جواب میں فنکاروں نے ’لبرٹی بیل‘ کے منفرد ڈیزائن تخلیق کیے، جو پاکستانی نقطۂ نظر سے آزادی کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔

نمائش 5 روز تک جاری رہے گی

‘لیٹ فریڈم رنگ’ نمائش 23 سے 27 جولائی تک اسلام آباد کے 2 نمایاں ثقافتی مراکز، لوک ورثہ میوزیم اور پاکستان مونومنٹ میوزیم میں جاری رہے گی۔

امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس 5 روزہ نمائش کے دوران دونوں مقامات کا دورہ کریں اور فن پاروں کا مشاہدہ کریں۔

امریکا اور پاکستان کے مشترکہ اقدار پر زور

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ ‘لبرٹی بیل’ آزادی، اظہارِ رائے اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہے۔

أعلنت السفارة الأمريكية في إسلام آباد عن افتتاح معرض ليت فريدوم رينغ في متحف لوك ورثه ومتحف النصب التذكاري الباكستاني، وذلك ضمن الاحتفالات العالمية بمرور ٢٥٠ عامًا على إعلان الاستقلال الأمريكي.

شارك في الافتتاح القائم بالأعمال الأمريكي آندي هيلز ووزير التراث الوطني والثقافة… pic.twitter.com/EcPOSXchyu

— WE News | بالعربية (@WENewsArabic) July 23, 2026

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں معاشروں میں فن، تخلیقی اظہار اور بہتر دنیا کے تصور کو اہمیت دی جاتی ہے۔

لوک ورثہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس تاریخی مقام پر امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پیش کرنا باعثِ فخر ہے۔

ثقافتی تبادلوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر زور

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

انہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔

امریکا 2026 میں اپنے اعلانِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز کے زیرِ اہتمام ‘فریڈم 250’ کے عنوان سے مختلف تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ‘لیٹ فریڈم رنگ’ مہم بھی اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادی، اختراع، تخلیقی اظہار اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔

اس نمائش کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے آزادی کے تصور کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزادی افتتاح لوک ورثہ میوزیم امریکا امریکی سفارتخانہ امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس پاکستان ثقافتی تبادلہ فنکاروں لبرٹی بیل لیٹ فریڈم رنگ مونومنٹ میوزم

متعلقہ مضامین

  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ