WE News:
2026-06-03@04:46:55 GMT

گروک: مصنوعی ذہانت کے ذریعے پاکستانی سیاست میں نئی جنگ

اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT

گروک: مصنوعی ذہانت کے ذریعے پاکستانی سیاست میں نئی جنگ

پاکستان میں مصنوعی ذہانت کی سیاست میں مداخلت اب محض تصور نہیں، بلکہ ایک فعال مظہر بن چکی ہے۔ xAI کے چیٹ بوٹ (گروک) کو پاکستانی صارفین، بالخصوص پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے حامی، تیزی سے ایک غیر رسمی سیاسی حوالہ بنانے لگے ہیں۔

یہ رجحان سماجی رابطوں کی ویب سائٹ X (سابقہ ٹویٹر) پر نمایاں طور پر نظر آتا ہے، جہاں روزانہ درجنوں صارفین گروک کو ٹیگ کر کے سیاسی سوالات کرتے ہیں اور اس کے جوابات کو اپنے نظریاتی بیانیے کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

گروک کے جوابات کو تنقیدی، مزاحیہ، یا جارحانہ انداز میں استعمال کرتے ہوئے، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بعض صارفین گروک کے جواب کو اپنی جماعت کے مخالفین کے خلاف دلیل کے طور پر لاتے ہیں، تو بعض اسے اپنی برتری کا ثبوت سمجھتے ہیں۔ اگرچہ الفاظ مختلف ہوتے ہیں، لیکن رجحان یکساں ہے: (گروک) کو ایک (ڈیجیٹل سچ) کی حیثیت دی جا رہی ہے، گویا وہ غیر جانبدار اور فیصلہ کن رائے دہندہ ہو۔

اس رجحان کی ٹیکنیکل جڑیں گروک جیسے چیٹ بوٹس کی تربیتی ساخت میں پیوست ہیں۔ گروک ایک (بڑا لسانی ماڈل) ہے جو انٹرنیٹ، خبروں، سوشل میڈیا اور متون کے مجموعے پر تربیت پاتا ہے۔

اس کے جوابات محض رٹے رٹائے نہیں، بلکہ پیچیدہ (الگورتھمز) اور مشین لرننگ کے اصولوں پر مبنی ترکیب ہوتے ہیں۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ماڈلز کبھی مکمل طور پر غیر جانبدار نہیں ہو سکتے۔

امریکی تحقیقی ادارے MIT Media Lab نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ بڑی زبان پر مبنی ماڈلز میں (contextual bias) یعنی سیاقی جانبداری عام ہے، جس کا تعلق صارف کے سوالات، موجودہ ڈیجیٹل بیانیے، اور ماڈل کے تربیتی ڈیٹا سے ہوتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر گروک کو مسلسل ایک طرف جھکاؤ رکھنے والے سوالات موصول ہوں، تو وہ جوابات بھی اسی رخ پر تشکیل دے سکتا ہے، چاہے وہ ارادی نہ ہوں۔

پاکستان کے تناظر میں یہ مسئلہ اور بھی اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ یہاں سیاسی تقسیم پہلے ہی شدید ہے۔ تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ نواز کے کارکن (گروک) کو بیانیہ سازی کے آلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اس بحث سے نمایاں طور پر غائب ہے۔

پیپلز پارٹی کی عدم موجودگی یا محدود شمولیت کی ممکنہ وجوہات میں سوشل میڈیا پر کم سرگرمی، (گروک) جیسے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز سے دوری، یا سیاسی ترجیحات کی مختلف نوعیت شامل ہو سکتی ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ (گروک) کی تربیت میں پیپلز پارٹی سے متعلق تازہ یا وائرل مواد کی کمی ہو، جس کی وجہ سے اس جماعت کے بارے میں جوابات یا تو کمزور ہوں یا غیر مرکزی۔

یہ رجحان صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ بھارت میں بھی 2024 کے انتخابات سے قبل کئی صارفین نے OpenAI اور Google Gemini جیسے چیٹ بوٹس سے نریندر مودی، کانگریس اور بی جے پی سے متعلق سوالات کر کے ان کے جوابات کو سیاسی مباحثے کا حصہ بنایا۔

امریکا میں صدارتی انتخابات کے دوران بھی یہ رجحان سامنے آیا کہ صارفین نے AI سے ڈونلڈ ٹرمپ یا جو بائیڈن کے بارے میں سوالات کر کے سکرین شاٹس سوشل میڈیا پر شیئر کیے۔

تاہم پاکستان میں جو بات اسے منفرد بناتی ہے، وہ یہ ہے کہ یہاں (گروک) کو نہ صرف ایک مذاق یا تجسس کے آلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، بلکہ ایک (عدالتی رائے) کے درجے پر رکھا جا رہا ہے، جو سیاسی جماعتوں کی سچائی یا جھوٹ پر مہر لگاتا ہے۔

اگر یہی رجحان جاری رہا، تو مستقبل میں سیاست، میڈیا، اور رائے عامہ کی تشکیل کے بنیادی تصورات بدل سکتے ہیں۔ روایتی صحافت، جو پہلے خبر کو تحقیق، تصدیق، اور تجزیے سے گزار کر پیش کرتی تھی، اب AI کے ایک جواب کو خبر کی شکل میں پیش کرنے لگے گی۔

سیاسی کارکن کسی بیانیے کو ثابت کرنے کے لیے لیڈر کا بیان نہیں بلکہ چیٹ بوٹ کا جواب پیش کریں گے۔ اور رائے دہندگان، جو پہلے خبرنامے یا اخبار کے تجزیے پر اعتماد کرتے تھے، وہ اب (گروک نے کیا کہا؟) پر اپنی رائے قائم کریں گے۔ یہ ایک نئی قسم کی (ڈیجیٹل رائے عامہ) کی تشکیل ہے، جہاں بیانیہ انسان نہیں، بلکہ (الگورتھم) بناتا ہے۔

یہ منظر ایک طرف مصنوعی ذہانت کی طاقت کا مظہر ہے، تو دوسری طرف معاشرتی خطرے کی علامت بھی۔ کیا ہم اس نظام کو آزاد چھوڑ سکتے ہیں، یا ہمیں اس پر اخلاقی و قانونی حدود لگانی ہوں گی؟ کیا سیاسی جماعتیں AI کے ساتھ ذمہ داری سے پیش آئیں گی، یا اسے ایک اور میدانِ جنگ میں بدل دیں گی؟ ان سوالات کا جواب اب دینا لازم ہے، کیونکہ ڈیجیٹل بیانیے کا یہ رجحان وقت کے ساتھ مزید گہرا اور فیصلہ کن ہوتا جا رہا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

طلحہ الکشمیری

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کے جوابات کے طور پر یہ رجحان کے جواب

پڑھیں:

پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2 جون 2026 کے لیے مختلف عالمی کرنسیوں کے پاکستانی روپے کے مقابلے میں تازہ ریٹس جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر اپنی سابقہ سطح کے قریب برقرار ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ، یورو اور خلیجی ممالک کی کرنسیاں بھی مستحکم رجحان دکھا رہی ہیں۔

امریکی ڈالر کی قیمت
اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکی ڈالر کی انٹربینک شرح 278.46 روپے رہی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت گزشتہ کئی ماہ سے 278 سے 280 روپے کے درمیان گردش کر رہی ہے، جس سے زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام کا تاثر مل رہا ہے۔

سعودی ریال اور اماراتی درہم
سعودی ریال 74.19 روپے جبکہ متحدہ عرب امارات کا درہم 75.82 روپے پر برقرار رہا۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے باعث ان کرنسیوں کی اہمیت پاکستانی معیشت کے لیے بہت زیادہ ہے۔

یورو اور برطانوی پاؤنڈ
یورو کی قیمت 324.40 روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ 375.18 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ اور برطانیہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے ان کرنسیوں کی قیمتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔

دیگر اہم کرنسیاں
کینیڈین ڈالر 201.19 روپے، آسٹریلوی ڈالر 200.03 روپے، قطری ریال 76.39 روپے، بحرینی دینار 738.61 روپے اور کویتی دینار 907.63 روپے کی سطح پر رہا، جو بدستور پاکستانی روپے کے مقابلے میں سب سے مہنگی کرنسیوں میں شامل ہے۔

آج کے نمایاں کرنسی ریٹس

امریکی ڈالر: 278.46 روپے
سعودی ریال: 74.19 روپے
اماراتی درہم: 75.82 روپے
قطری ریال: 76.39 روپے
یورو: 324.40 روپے
برطانوی پاؤنڈ: 375.18 روپے
کینیڈین ڈالر: 201.19 روپے
آسٹریلوی ڈالر: 200.03 روپے
کویتی دینار: 907.63 روپے
بحرینی دینار: 738.61 روپے
عمانی ریال: 723.26 روپے

ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں روپے کی قدر کا انحصار ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر، درآمدی ادائیگیوں اور عالمی مالیاتی رجحانات پر ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی