مصنوعی ذہانت سے لیس پینٹ جو ایئرکنڈیشنرز کا خرچہ کم کرتا ہے
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
تیزی سے بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت اور شہری علاقوں میں ’اربن ہیٹ آئی لینڈ‘ کے بڑھتے ہوئے اثرات نے ماحولیاتی ماہرین اور سائنسدانوں کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ان حالات میں توانائی کی بچت اور درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے کے لیے جدید سائنسی حل کی تلاش تیز ہوچکی ہے۔
تھرمل پینٹ کی تیاری میں مصنوعی ذہانت کا استعمالامریکا، چین، سنگاپور اور سوئیڈن کے سائنسدانوں پر مشتمل ایک بین الاقوامی تحقیقی ٹیم نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ایک نیا تھرمل پینٹ تیار کیا ہے جو نہ صرف سورج کی روشنی کو مؤثر انداز میں منعکس کرتا ہے بلکہ حرارت کو خارج کر کے عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔
گرمی میں واضح کمی اور بجلی کی بچتتحقیق کے مطابق یہ پینٹ دوپہر کے وقت سورج کی براہِ راست شعاعوں کے باوجود عمارتوں کو عام رنگ کے مقابلے میں 5 سے 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک ٹھنڈا رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ پینٹ کسی گرم آب و ہوا والے علاقے میں واقع 4 منزلہ اپارٹمنٹ بلاک کی چھت پر لگایا جائے تو سالانہ 15 ہزار 800 کلو واٹ تک بجلی کی بچت ممکن ہے۔
وسیع پیمانے پر استعمال کے امکاناتیہ تھرمل پینٹ صرف عمارتوں تک محدود نہیں بلکہ گاڑیوں، ریل گاڑیوں اور برقی آلات پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ پینٹ ایک ہزار عمارتوں پر لگایا جائے تو اتنی توانائی بچائی جا سکتی ہے جو ایک سال میں 10 ہزار ایئر کنڈیشنرز کو چلانے کے لیے کافی ہو۔
مصنوعی ذہانت سے تحقیق میں انقلابماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کی بدولت اب کسی نئی چیز کی تخلیق سے قبل ہی اس کی متوقع کارکردگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جو کہ روایتی تحقیق کے مقابلے میں زیادہ مؤثر، کم وقت طلب اور کم خرچ ہے۔
ماحول دوست ٹیکنالوجی کی جانب اہم قدمیہ نیا پینٹ نہ صرف بڑھتی ہوئی گرمی سے نمٹنے میں مددگار ہو سکتا ہے بلکہ توانائی کی بچت اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کی ترقی کے میدان میں بھی ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایجادات موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف عالمی کوششوں کو تقویت دے سکتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ایئرکنیشنرز اے آئی پینٹ بجلی بچت درجہ حرارت سائنسدان مصنوعی ذہانت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایئرکنیشنرز اے ا ئی پینٹ بجلی بچت مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت سکتا ہے کی بچت
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ