نوازشریف کی عمران خان سے اڈیالہ میں ممکنہ ملاقات کی سوچ، وزیردفاع خواجہ آصف کا موقف آگیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
اسلام آباد (ویب ڈیسک) نوازشریف کے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بارے سوچنے کی خبروں پر وزیردفاع خواجہ آصف کا ردعمل بھی آگیا ۔
ایک پوڈ کاسٹ میں وزیردفاع سےسوال کیاگیا کہ 'خبر ہے ممکنہ طورپر نوازشریف سوچ رہے ہیں کہ اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی جائے ، آپ کی کیا رائے ہے؟ اس پر خواجہ آصف نے بتایا کہ "کامران شاہد کے والد کے نوازشریف کے ساتھ بڑا اچھاتعلق ہے، پرانے مراسم ہیں، میں اس کا گوا ہ ہوں، وہ اپنے والد سے پوچھ لیں اوران سے کانفرم کروا لیں،براہ راست کامران کی کوئی بات نہیں ہوئی ہونی لیکن ان کے والد کے بہت اچھے تعلقات ہیں۔
وزیردفاع کا مزید کہناتھاکہ اس قسم کی پتنگ بازی نہ کریں، یہ میڈیا کی کریڈیبلٹی پر سوال نشان ہے، نوازشریف آخرکیوں اڈیالہ جائیں گے؟ کوئی منطق ، کوئی سیاسی منطق مجھے سمجھا دیں،ویسے تو نوازشریف وزیراعظم بنے تھے تو ہسپتال میں بھی انہیں ملنے گئے تھے، نوازشریف بنی گالہ بھی ملنے گئے تھے تو سڑک کے لیے چالیس لاکھ روپے مانگ لیے تھے، اس دفعہ گئے تو کوئی اور پیسے نہ مانگ لیے، اس بارے کامران شاہد سے کوئی گارنٹی لے لیں۔
یادرہے کہ نوازشریف کی سوچ اور ممکنہ ملاقات کی خبر سینئر صحافی و اینکر پرسن کامران شاہد نے دی تھی ۔
پشاور ہائیکورٹ؛مخصوص نشستوں کی تقسیم کیخلاف درخواست،ن لیگ کی اقلیت کی نشست پر ٹاس کی استدعا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔