مالی مفاد حب الوطنی پر غالب: بھارت ایشیا کپ میں پاکستان سے کھیلنے پر آمادہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
کراچی:
بائیکاٹ کا شور مچانے والا بھارت آخرکار پاکستان کے سامنے جھک گیا اور ایشیا کپ میں پاکستان کے ساتھ کھیلنے پر آمادگی ظاہر کردی۔
گزشتہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی کے بعد بھارت میں ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے پاکستان کے ساتھ کھیلوں کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جارہی تھی۔
تاہم کرکٹ ماہرین اور تجزیہ کار پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ بھارت کیلئے پاکستان کا بائیکاٹ کرنا محض نعروں تک محدود ہوگا کیونکہ کوئی بھی ایسا قدم اٹھانے سے بھارت کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا تھا۔
حب الوطنی کا شور اور بائیکاٹ کے نعرے بالآخر مالی مفادات کے سامنے دب گئے اور وہی ہوا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ بھارت نے لیجنڈز چیمپئن شپ میں پاکستان سے کھیلنے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ اس ٹورنامنٹ میں مالی نقصانات کا کوئی بڑا خطرہ موجود نہیں تھا جبکہ ایشیا کپ جیسے بڑے ایونٹ میں بھارت نے تمام باتوں کو بالائے طاق رکھ کر کھیلنے پر آمادگی ظاہر کردی۔
بھارتی بورڈ کے سیکریٹری دیواجیت سائیکیا نے این ڈی ٹی وی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کے ساتھ کھیلوں میں مکمل بائیکاٹ ممکن نہیں کیونکہ اگر بھارت کثیر ملکی ٹورنامنٹس میں پاکستان کے خلاف کھیلنے سے انکار کرتا ہے تو آئی سی سی یا ایشین کرکٹ کونسل کی جانب سے سخت پابندیاں لگ سکتی ہیں، ایسے اقدامات نوجوان کرکٹرز کے کیریئر پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی کھیل میں شرکت کے حوالے سے مرکزی حکومت پالیسی بناتی ہے۔ یہ فیصلہ بڑے احتیاط سے کیا گیا ہے تاکہ قومی سطح کی اسپورٹس فیڈریشنز کے لیے آسانی ہو اور وہ اس کے مطابق کثیر ملکی ٹورنامنٹس میں شرکت یا عدم شرکت کا فیصلہ کر سکیں۔
سائیکیا نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت نے تمام عوامل کو مدنظر رکھا ہے جس میں فیڈریشنز کے مفادات اور کھلاڑیوں کے خدشات بھی شامل ہیں۔ بی سی سی آئی صرف بھارتی حکومت کے کھیلوں سے متعلق رہنما اصولوں پر عمل کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ بھارت اور پاکستان کی ٹیمیں 14 ستمبر کو گروپ اسٹیج میں آمنے سامنے ہوں گی، جبکہ امکان ہے کہ ٹورنامنٹ کے دوران دونوں ٹیموں کے درمیان تین بار تک مقابلہ ہو سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں پاکستان پاکستان کے
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔