ملتان:

بالائی علاقوں اور پنجاب میں مسلسل بارشوں کے باعث دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلابی ریلے نے مظفرگڑھ کی تحصیلیں اور دیہات زیر آب آگئے۔

سیلابی ریلے سے جتوئی اور علی پور بری طرح متاثر ہوئے جبکہ مختلف موضع جات اور شہر سلطان میں بھی پانی داخل ہوگیا۔

ڈی پی او سید غضنر علی شاہ کے مطابق ریسیکیو آپریشن کے لیے پاک فوج طلب کر لی گئی۔ پنجاب پولیس، ریسکیو 1122 اور تمام دیگر ضلعی ادارے ریسکیو آپریشن میں شریک ہیں جبکہ ریسکیو 1122 کی 32 بوٹس حصہ لے رہی ہیں۔

ریسکیو 1122 کی جانب سے نشیبی علاقوں سے ایمرجنسی میں 4686 لوگوں کو ریسکیو کیا گیا۔

دریائے چناب میں پانی کی سطح مسلسل برقرار رہنے پر حفاظتی بندوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے جبکہ رات گئے سے وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ بھی جاری ہے۔    

دوسری جانب، دریائے راوی اور دریائے ستلج میں اونچے درجے کی سیلابی صورتحال کے باعث اوکاڑہ کے سیلاب زدہ علاقوں کے اسکولوں میں چھٹیوں کی توسیع ہوگئی۔

سیلاب متاثرہ 32 موضع جات کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں کی چھٹیوں میں 8 تا 14 ستمبر تک توسیع کر دی گئی۔

اسکولوں کی چھٹیوں میں توسیع سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فلڈ ایمرجنسی کے پیش نظر کی گئی ہے، اس سلسلے میں محکمہ تعلیم کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔          

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا

فوٹو: آن لائن 

لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔

 تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔

بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔

گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔

منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پانی کا دباؤ بڑھ گیا،چنیوٹ میں شگاف پڑنے سےکئی ایکڑ فصلیں متاثر
  • دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب
  • دریائے چناب میں سیلاب، تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح بلند، چنیوٹ میں نہر میں شگاف سے فصلیں زیر آب
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا