دو سال میں یہ جھوٹی پریس کانفرنس بھی نہیں کروا سکے کہ عمران خان جیل سے نکلنے کیلئے منتیں کر رہاہے : سینئر تجزیہ کار امیر عباس
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر تجزیہ کار امیر عباس ٹی وی پروگرام کے دوران اپنے ساتھی تجزیہ کار حسن ایوب کے ریمارکس پر غصے میں آ گئے اور کہا کہ دو سالوں میں کوئی ایک بھی جھوٹی پریس کانفرنس تک نہیں کروا سکے جس میں کسی نے دعویٰ کیا ہو کہ عمران خان جیل سے نکلنے کیلئے منتیں کر رہاہے۔
نجی ٹی وی ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے امیر عباس کا کہناتھا کہ حسن ایوب کے جہاں رابطے اور ذرائع ہیں وہ مجھے بھی پتا ہے ، دو سال میں کوئی ضعیف سے ضعیف راوی بھی نہیں آیا ہے کسی چینل پر ، جب پارٹی چھڑوائی گئی تو اتنی پریس کانفرنس کروائی گئیں ،کوئی ایک پریس کانفرنس جعلی ہی کروا دیتے، دونمبر بندہ ہی لا کر بٹھا دیتے جو کہتا کہ عمران خان نے مجھے کہا کہ میں پیر پکڑنے کو تیار ہوں ، ناک سے لکیریں بھی کھینچنے کیلئے تیار ہوں، مجھے جیل سے باہر نکال دو، کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں آیا جس نے یہ کہا ہو۔
یوٹیوبر فلک جاوید کا ’گروک‘ سے شہبازشریف کی شادیوں پر سوال، آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا جواب سوشل میڈیا پر وائرل
انہوں نےطنز کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں تو کیمرے بھی لگے ہیں، سب کچھ ریکارڈ ہو رہاہے ، جو لوگ عمران خان کو ملنے آ رہے ہیں، عمران خان انہی کو کہتا ہو گا کہ میں ہاتھ جوڑ رہا ہوں ، مرغا بنتا ہوں مجھے باہر نکال دیں، تو وہ ویڈیوز لیک کر دیں، عمران خان کو ایکسپوز کریں کہ یہ فراڈیا یا دو نمبر آدمی ہے ، لیکن کوئی بھی ایسا شخص نہیں آیا۔
دو سال میں کوئی ایک یہ جھوٹی پریس کانفرنس بھی نہیں کروا سکے جس میں کسی نے دعوٰی کیا ہو کہ " عمران خان منتیں کررہا ہے کہ مجھے جیل سے نکالو میں معافی مانگتا ہوں "
یہ پلانٹڈ پریس کانفرنس بھی نہیں کروا سکے، امیر عباس pic.
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: نہیں کروا سکے پریس کانفرنس کوئی ایک بھی نہیں جیل سے
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔