200 یونٹ والی بدمعاشی ختم کریں، نعمان اعجاز بجلی کی قیمتوں پر برہم
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
پاکستان کے سینئر اداکار نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں طنزیہ انداز میں کہا کہ ایک عام شہری کبھی میٹر کو گھورتا ہے، کبھی سورج کو اور کبھی اپنے بچوں کو مگر کہیں سے کوئی ریلیف نظر نہیں آتا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان کے سینئر اداکار نعمان اعجاز نے بجلی یونٹس کے نظام پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ 200 یونٹ والی بدمعاشی کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ نعمان اعجاز نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں طنزیہ انداز میں کہا کہ ایک عام شہری کبھی میٹر کو گھورتا ہے، کبھی سورج کو اور کبھی اپنے بچوں کو مگر کہیں سے کوئی ریلیف نظر نہیں آتا۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ خدارا 200 یونٹس کے نظام کو ختم کریں، یہ ظلم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔