کہوٹہ میں کلاؤڈ برسٹ، سید پور میں 130 ملی میٹر بارش، راولپنڈی شہر محفوظ رہا
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
سٹی42: کہوٹہ میں کلاوڈ برسٹ ہو گئے۔ غیر معمولی تبز رفتار سے پانی برسنے کے سبب پانی کی نکاسی کا نظام ناکام ہو گیا، بارش کا پانی نشیبی علاقہ کے گھروں اوردکانوں میں داخل ہوگیا۔
محلہ چاہت میں گھر کی چھت گرنے سے ایک بچہ جاں بحق ہوگیا جبکہ ماں باپ اور 2 بچوں کو ملبے سے زخمی حالت میں نکال لیا گیا۔
اسلام آباد میں مرگلہ کے دامن میں واقع سید پور گاؤں میں 131 ملی میٹر بارش ہوئی لیکن ڈھلان پر واقع ہونے کی وجہ سے آبادہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، سارا پانی بہہ کر اسلام آباد کے نالوں میں آ گیا اور آگے جا کر لئی نالہ میں شامل ہو گیا۔
نثار حویلی لاہور سے شبیہہَ ذوالجناح کی برآمدگی، جلوس روایتی راستوں پر رواں
پی ایم ڈی میں 81 ملی میٹر، گولڑہ میں 31 ملی میٹر اور چکلالہ میں 25 ملی میٹر بارش ہوئی۔
آج مارگلہ کے کیچمنٹ ایریا میں کافی زیادہ بارش ہونے کے باوجود لئی میں سیلاب نہیں آیا۔ لئی کے کناروں پر نشیبی آبادیوں گوالمنڈی، ندیم کالونی وغیرہ مین سیلاب کا ابتدائی الرٹ جاری کیا گیا تھا تاہم کوئی مسئلہ سامنے نہیں آیا۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ملی میٹر
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔