Juraat:
2026-07-24@13:46:01 GMT

نفرت انگیز بیانیہ نہیں وطن پرستی

اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT

نفرت انگیز بیانیہ نہیں وطن پرستی

حمیداللہ بھٹی

ہمارامزاج کچھ ایسا ہو گیا ہے کہ اگر کچھ عرصہ پُرسکون گزرے تو بے چین ہوجاتے ہیں اور خود ایسی کوششوں میں لگ جاتے ہیں جن سے بے چینی ا ورہیجان کو فروغ ملے اِس کی وجہ عدم برداشت ، رواداری کا فقدان اور نفرت انگیز بیانیہ ہے۔ اگرکوئی بے بنیاد لیکن سنسنی خیزخبر سنائے تو لوگ نہ صرف دلچسپی اورمزے سے سنتے ہیں بلکہ اپنے رفقاکوبھی سنانے میں لذت محسوس کرتے ہیں ۔ایسامزاج بالغ نظر معاشرے کانہیں ہوسکتا ۔مزید یہ کہ ہم سچائی کے متلاشی نہیں رہے سُنی سنائی بات پرفوراََ یقین کرلیتے ہیں۔اِس طرح نفرت انگیز بیانیے کے لیے حالات سازگار ہوئے ہیں اور جھوٹ ہمارے مزاج کاحصہ بن گیاہے۔ ہر کوئی جب چاہے کسی پربھی دشنام طرازی کرنے لگتا ہے اور پھراِسے کارنامہ جان کر فخر سے اپنے رفقاکو بتاتاہے کہ فلاں اہم شخص کو اِس طرح بدنام کیا ہے تعجب یہ کہ سُننے والا بھی حوصلہ شکنی کی بجائے واہ واہ کرتا ہے۔ حالانکہ ہونا یہ چاہیے کہ جھوٹ اورنفرت انگیز بیانیہ رکھنے والے کی حوصلہ شکنی کی جائے لیکن ایسا نہیں ہورہا کیونکہ اکثریت کوسچ سے کوئی غرض نہیںصرف اپنے مزاج کے مطابق سنناہی پسند ہے ۔
ذرائع ابلاغ نے بہت ترقی کرلی ہے اِس لیے ہونا تو یہ چاہیے کہ حقیقت جاننے میں مشکل پیش نہ آئے مگرذرائع ابلاغ کی ترقی نے حقائق سے آگاہی مشکل کردی ہے۔ ویسے لوگ بھی حقیقت جاننے کی جستجو ہی نہیں کرتے اور جب سے سوشل میڈیا کاظہورہوا ہے یہ توبالکل ہی جھوٹ پر مبنی نفرت انگیز بیانیہ پھیلانے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ اب جس کا جی چاہتا ہے وہ گلہ پھاڑ کر ہرکسی پر کیچڑ اُچھالنے لگتا ہے کیونکہ تدارک کا کوئی طریقہ کار نہیں۔ لہٰذاسوشل میڈیانے معاشرے کوجھوٹ سُننے اور سنانے کے لیے مادرپدرآزاد کردیاہے ۔یہ سوشل میڈیا کا تعمیری کی بجائے نقصان ہے ۔دنیامیںیہ مقبولیت بڑھانے اور تجارت کے لیے استعمال ہوتا ہے مہذب معاشروں کے لوگ اخلاق اور دلیل سے بات کرتے ہیں اور سچائی جاننے کی جستجو کرتے ہیں اسی لیے ہلچل وہیجان کم ہوتا ہے۔ اگر کوئی من گھڑت اور بے بنیاد واقعات کی تشہیر کرے توجلدہی کوئی سچ سامنے لے آتا ہے اسی لیے نفرت انگیز بیانیے کی گنجائش نہیں اب وقت آگیا ہے کہ ہم بھی اپنے اطوار کا جائزہ لیں اوربرداشت و رواداری پر مبنی زمہ دارانہ بیانیہ اپنائیں ۔
دنیا میں کوئی ایسا ملک بتا دیں جس کے شہری اپنے ملک کی بجائے سرِعام خودکودوسرے ملک کاکہیں اپنے علاقوں کو ہمسایہ ملک کا حصہ قراردیں ۔اگر کوئی ایسے کسی فعل کامرتکب ہوتونہ صرف اِداروں کامعتوب ہوتا ہے بلکہ عام شہری بھی ایسی حرکت کابُرامناتے اور نفرت کرتے ہیں مگر زرا دل پر ہاتھ رکھ کربتائیں کیا ہمارے یہاں بھی ایسا ہے؟ہرگز نہیں۔یہاں تو قوم پرستی کا لبادہ اوڑھے کچھ لوگ پاک وطن کا شہری کہلوانے سے گریزاں ہیں۔ اِن کی اولاد بھی ایسا ہی نفرت انگیز بیانیہ رکھتی ہے مگر ریاست خاموش ہے ۔اب تو ایسے ہی ایک قوم پرست کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنا دیا گیا ہے ۔اِس کا والد قیامِ پاکستان کا مخالف رہا ۔اِس کی اولاد نے پاکستانی سرزمین پر جنم لیا تعلیم حاصل کی اسی ملک کے وسائل استعمال کیے مگرپاک وطن کی وفادار نہیں بلکہ لسانی اور قومیت کی بنیاد پر تقسیم کی علمبردارہے ۔یہ امن کے بجائے لڑائو،گھیرائو اور جلائو پر فریفتہ ہے۔ رواداری اور برداشت سے کوئی سروکار نہیں۔ البتہ سچ پر جھوٹ کو ترجیح دینے سے خاص رغبت ہے اسی خاندان کے سربراہ کا قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈربن جاناسمجھ سے بالاتر ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسے خاندان اور شخصیات کی حوصلہ شکنی کیوں نہیں کی جاتی؟کیونکہ ایسے چہروں کوعزت و مرتبہ ملنے سے وطن پرستی کی بجائے نفرت انگیز بیانیے کادرس ملتا ہے ۔
اپنے وطن کی ترقی پر شہری خوش ہوتے ہیں مگر ہمارے یہاں ایسا رواج نہیں ہمارے حکمرانوں کوکہیں عزت واہمیت ملے تویہاں رنجیدگی ظاہر کی جاتی ہے لیکن بے عزتی ہونے کواُچھالتے ہوئے سوشل میڈیاپر لوگ جھوم جھوم جاتے ہیں ۔ارے بھئی کوئی ملک اگر ہمارے حکمرانوں کو عزت دیتا ہے تو یہ ایک حکومتی شخص کی نہیں بلکہ پاکستان کی عزت ہے۔ اگر کسی کوسیاسی ،علاقائی ،لسانی یاقومیت کے حوالے سے کوئی مسئلہ ہے تواظہار کے اور بھی کئی طریقے ہیں یہ طریقہ تو کوئی مناسب نہیں کہ ملک کوعزت ملنے پر غمزدہ ہواجائے اور بے عزتی پر خوشی کے شادیانے بجائے جائیں۔
بھارت نے پاک وطن کو نیچا دکھانے اور خطے پر بالادستی ثابت کرنے کے لیے رواں برس چھ سے دس مئی کے دوران جارحیت کاارتکاب کیا جس کاجواب پاک فوج نے دندان شکن دیادشمن کی جارحیت پر موثر،شاندار اور نپے تُلے ردِعمل نے دشمن کو دن میں تارے دکھا دیے بھارت کے جنگی طیارے کچھ اِس طرح گرائے جیسے شکاری شکارکے دوران پرندے گراتا ہے۔ اِس بے مثال کامیابی کو دنیا نے تسلیم کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ جیسا شخص ہر اہم تقریب میں خوشی سے تذکرہ کرتا ہے وہی امریکہ جہاں ماضی میںہمارے وزیرِ اعظم کا ٹیلی فون سُننے تک سے اجتناب کیاجاتا تھا اب پاکستان پر فداہے ۔ہمارے حکمرانوں کی عزت افزائی کرتا اور فیلڈمارشل کو پسندیدہ قرار دیتا ہے دنیا کی تینوں بڑی طاقتیں امریکہ ،روس اور چین اِس وقت پاکستان پر مہربان ہیں جس کی وجہ پاک فوج کی مہارت وطاقت ہے تینوں بڑی عالمی طاقتوںکو معلوم ہے کہ پاک فوج میں حیران کردینے والی صلاحیت ہے۔ حرمین شریفین کے تحفظ کی الگ سعادت ملی ہے جبکہ بھارت کی سفارتی تنہائی عیاں ہے مگر یہاں ایسے بھی لوگ ہیں جواب بھی نفرت انگیز بیانیہ رکھتے اور مایوسی کا پہلو تلاش کرلیتے ہیں۔ شاید یہ لوگ چاہتے ہیں ہماری حکومت اور فوج ہر جگہ ماردھاڑ کرے اور بے عزت ہواگر ایسا ہی ہے تویہ وطن پرستی ہر گز نہیں ارے بھئی پاکستان کوبھی ترقی کرنے کا حق ہے تاکہ ہر شہری خوشحال ہو اور دنیا میں عزت وتکریم کاحقدار ٹھہرے۔
شمال مغربی سرحد کی صورتحال پر ہر پاکستانی فکرمند ہے اور چاہتا ہے کہ افغانستان سے دوبدوہونے کی نوبت نہ آئے حکومت اور فوج کی بھی یہی سوچ ہے مگر ڈالرزملنے کی وجہ سے طالبان قیادت پاک وطن کے خلاف بھارت کی پراکسی بن چکے ہیں۔ بار بارسمجھانے اوردہشت گردی کے ثبوت دینے کے باوجود وہ نمک حرامی ترک نہیں کر رہے۔ قطر اور ترکیہ میں ہونے والے مذاکرات بھی اسی وجہ سے ناکام ہوئے۔ اب پاکستان کے پاس ایسا کوئی راستہ نہیں رہا کہ نمک حراموں کو طاقت سے کچل دے لیکن سوشل میڈیا پر ایسے نا ہنجاربھی ہیں جو مشورہ دیتے ہیں کہ پاکستان لڑنے کی بجائے افغانستان سے ہونے والے حملوں کو برداشت کرے کیوں بھئی؟کیوں برداشت کرے؟ جب پاک فوج خود سے آٹھ گُنا بڑے دشمن کو دھول چٹاسکتی ہے توافغانستان کے چند ہزارگوریلا جنگ لڑنے والوں کی کیا حیثیت ؟ کا ش نفرت انگیز بیانیہ رکھنے والے یہ حقیقت سمجھ جائیں اور سیاست پر رواداری اور برداشت کو ترجیح دیں۔ ملک اور اداروں کا ساتھ دیناوطن پرستی ہے جس دن ایسا ہوگیا وہ دن پاکستان کی ترقی ،خوشحالی اور سیاسی استحکام کی بنیاد ثابت ہوگا۔
٭٭٭

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: نفرت انگیز بیانیہ وطن پرستی کرتے ہیں کی بجائے پاک وطن پاک فوج کے لیے

پڑھیں:

اسلامی اقدار اور جدید دور

آج کی دنیا اپنی رفتار، اپنی چمک اور اپنی پیچیدگی کے باعث پہلے سے کہیں زیادہ متنوع ہو چکی ہے۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے سمٹائے ہیں، معلومات کی فراوانی پیدا کی ہے، اور زندگی کے بے شمار شعبوں میں سہولتیں فراہم کی ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ انسان کے اندرونی سکون، اخلاقی توازن، خاندانی استحکام اور روحانی وابستگی میں ایک واضح کمی بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ خلا ہے جسے صرف مادی ترقی پر نہیں کر سکتی۔ اس خلا کو وہ اقدار پر کرتی ہیں جو انسان کو اس کی اصل پہچان، اس کے مقصدِ حیات اور اس کی اخلاقی ذمہ داریوں سے جوڑتی ہیں، اور اسلامی اقدار اسی ضرورت کا جواب ہیں۔
اسلام محض چند عبادات یا رسومات کا نام نہیں، بلکہ ایک جامع نظامِ زندگی ہے۔ یہ انسان کے عقیدے کو بھی درست کرتا ہے، اس کے اخلاق کو بھی سنوارتا ہے، اس کے معاملات کو بھی راہ دکھاتا ہے، اور اس کے اجتماعی رویوں کو بھی متوازن بناتا ہے۔ سچائی، امانت، عدل، حیا، رحم، خدمت، صبر، شکر اور ذمہ داری جیسے اصول اسلام کی روح ہیں۔ یہ اصول کسی ایک زمانے، کسی ایک تہذیب یا کسی ایک معاشرے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ جدید دور میں، جب مفاد پرستی، خود غرضی، دکھاوا، بے صبری اور اخلاقی بے راہ روی عام ہوتی جا رہی ہے، اسلامی اقدار پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔
آج انسان بظاہر زیادہ باخبر ہے، مگر اندر سے زیادہ بے چین بھی ہے۔ اس کے پاس ذرائع ابلاغ کی بے پناہ طاقت ہے، مگر سچائی کی کمی ہے۔ اس کے پاس رابطے کے لاتعداد وسیلے ہیں، مگر دلوں میں دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس کے پاس سہولتیں ہیں، مگر اطمینان کم ہے۔ اس کے پاس آزادی کے نعرے ہیں، مگر ذمہ داری کا احساس کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام انسان کو توازن دیتا ہے۔ وہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ آزادی ہو مگر اخلاق کے ساتھ، ترقی ہو مگر انصاف کے ساتھ، علم ہو مگر حکمت کے ساتھ، اور طاقت ہو مگر جواب دہی کے ساتھ۔
اسلامی اقدار کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ انسان کو زمانے سے الگ نہیں کرتیں بلکہ زمانے کے اندر رہتے ہوئے بہتر انسان بننے کی تربیت دیتی ہیں۔ اسلام عقل کے استعمال کو سراہتا ہے، علم کے حصول کو عبادت کے درجے تک پہنچاتا ہے، تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس لحاظ سے اسلام جدیدیت کا مخالف نہیں، بلکہ ایسی جدیدیت کا حامی ہے جو انسان کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر جدید دور سے مراد سائنس، ٹیکنالوجی، مواصلات، تحقیق اور سہولتوں میں ترقی ہے تو اسلام ان سب سے متصادم نہیں۔ البتہ اگر جدید دور سے مراد اخلاقی نسبیت، خاندانی نظام کی تباہی، مادہ پرستی اور بے مقصد آزادی ہے تو اسلام اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
مسلمان معاشروں کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام آج کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دے سکتا، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو اپنی اجتماعی زندگی میں مکمل طور پر نافذ نہیں کیا۔ ہم نماز کو تو اختیار کرتے ہیں مگر معاملات میں سچائی کمزور رہتی ہے۔ ہم مذہبی شناخت کو تو اہم سمجھتے ہیں مگر سماجی انصاف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم دین کی بات تو کرتے ہیں مگر اس کی اخلاقی روح کو اپنی زندگیوں میں جگہ نہیں دیتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہماری ظاہری وابستگی تو باقی رہتی ہے، لیکن اجتماعی کردار متاثر ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں اصل ضرورت اسی کردار کی ہے جو دیانت، انصاف، نرمی، امانت اور انسان دوستی پر قائم ہو۔
نوجوان نسل اس بحث کا سب سے اہم حصہ ہے۔ آج کا نوجوان ایک ایسے ماحول میں زندگی گزار رہا ہے جہاں ہر طرف مسابقت ہے، دبا ہے، اشتہارات ہیں، فیشن ہے، مواد کی بھرمار ہے، اور شناخت کے بحران ہیں۔ اس صورتحال میں اگر اسے کوئی مضبوط اخلاقی بنیاد نہ دی جائے تو وہ منتشر ہو سکتا ہے۔ اسلامی اقدار نوجوان کو جڑ بھی دیتی ہیں اور سمت بھی۔ وہ اسے بتاتی ہیں کہ کامیابی صرف کیریئر بنانے کا نام نہیں، بلکہ اچھا انسان بننے کا نام بھی ہے۔ وہ اسے یہ شعور دیتی ہیں کہ عزت صرف شہرت میں نہیں، کردار میں بھی ہوتی ہے؛ اور ترقی صرف تنخواہ یا معیارِ زندگی میں نہیں، بلکہ اخلاقی بلندی میں بھی ہوتی ہے۔
خاندانی نظام کے لیے بھی اسلامی اقدار ناگزیر ہیں۔ جدید دنیا میں خاندان تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان فاصلہ، میاں بیوی کے درمیان عدم برداشت، بزرگوں کی بے توقیری، اور رشتوں میں مفاد پرستی ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اسلام خاندان کو محض ایک سماجی اکائی نہیں سمجھتا بلکہ اسے تربیت، محبت، قربانی اور سکون کا مرکز قرار دیتا ہے۔ اگر گھر کے اندر اسلامی اخلاق زندہ ہوں تو معاشرہ بھی سنورتا ہے۔ کیونکہ معاشرہ گھروں ہی سے بنتا ہے، اور گھروں کی اصلاح کے بغیر کسی بڑی اجتماعی تبدیلی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی اسلامی اقدار کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ جھوٹی خبروں، بے بنیاد پروپیگنڈے، کردار کشی، سنسنی، اور اخلاقی بے احتیاطی نے ابلاغ کو ایک خطرناک میدان بنا دیا ہے۔ صحافت اگر سچائی، امانت اور ذمہ داری سے خالی ہو جائے تو وہ اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میڈیا کے لیے بھی ایک واضح ضابطہ فراہم کرتی ہیں: خبر کی تصدیق، زبان کی پاکیزگی، نیت کی درستگی، اور اثرات کی ذمہ داری۔ یہی اصول جدید صحافت کو معتبر بناتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلامی اقدار فرد کو صرف اخلاقی ضابطہ نہیں دیتیں بلکہ اسے اندرونی وقار بھی عطا کرتی ہیں۔ جدید انسان بسا اوقات دوسروں کی نظر میں اچھا دکھنے کے لیے جیتا ہے، مگر اپنی روح کے ساتھ سچا نہیں ہوتا۔ اسلام دکھاوے کے بجائے اخلاص سکھاتا ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی لوگوں کی داد نہیں، بلکہ اللہ کی رضا ہے۔ یہی احساس انسان کو منافقت سے بچاتا ہے، اس کی نیت کو صاف کرتا ہے، اور اس کے عمل کو مضبوط بناتا ہے۔
معاشی زندگی میں بھی اسلامی اقدار کی حیثیت غیر معمولی ہے۔ جدید معیشت نے بڑے پیمانے پر ترقی تو کی ہے، مگر ساتھ ہی استحصال، سود، دھوکہ، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی اور مالی ناانصافی بھی پیدا کی ہے۔ اسلام معاشی سرگرمیوں کو جائز، صاف، شفاف اور انسانی احترام کے دائرے میں رکھتا ہے۔ وہ دولت کے انبار لگانے سے زیادہ جائز کمائی، عدل اور سماجی بھلائی پر زور دیتا ہے۔ اگر اس اصول کو اپنایا جائے تو معیشت محض منافع کا کھیل نہیں رہتی بلکہ اجتماعی فلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
درحقیقت اسلامی اقدار اور جدید دور میں کوئی حقیقی تضاد نہیں۔ تضاد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم جدیدیت کو اخلاق سے جدا کر دیں یا دین کو عملی زندگی سے الگ سمجھ لیں۔ اسلام نہ زمانے سے فرار سکھاتا ہے، نہ ترقی سے نفرت۔ وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ زمانے میں رہو، مگر زمانے کے غلام نہ بنو؛ ترقی حاصل کرو، مگر اپنی روح نہ کھو؛ دنیا میں کامیاب ہو، مگر آخرت کو نہ بھولو۔ یہی وہ توازن ہے جس کی آج کے انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
آج کے دور میں سب سے بڑی اصلاح فرد کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ اگر نیت درست ہو، کردار مضبوط ہو، اور اقدار زندہ ہوں تو جدید دور ایک خطرہ نہیں رہتا بلکہ ایک موقع بن جاتا ہے، لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب انسان کے اندر اخلاقی شعور اور دینی وابستگی موجود ہو۔ اسلامی اقدار اسی شعور کو بیدار کرتی ہیں۔
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی اقدار کو محض تقریروں، کتابوں اور نعروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں اپنی روزمرہ زندگی، تعلیمی اداروں، میڈیا، سیاست، تجارت اور گھریلو نظام میں زندہ کریں۔ اسلام یہی کچھ دیتا ہے۔ اور اگر ہم نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تو پھر جدید دنیا میں بھی ہماری شناخت کمزور نہیں پڑے گی، بلکہ اور زیادہ روشن ہو گی۔

متعلقہ مضامین

  • نفرت اور برادری کی سیاست ختم کر کے ترقی کو آگے بڑھانا ہوگا، وزیراعظم آزاد کشمیر
  • بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
  • 20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ