خدارا 200 یونٹ والی بدمعاشی ختم کریں: نعمان اعجاز
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)پاکستان کے سینئر اداکار نعمان اعجاز نے بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں اور یونٹس کے نظام پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ 200 یونٹ والی بدمعاشی کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔
ملک بھر میں گرمی کی شدت میں اضافہ اور ساتھ ہی بجلی کی لوڈشیڈنگ و بلوں میں بے تحاشا اضافہ عوام کو پریشان کیے ہوئے ہے، ایسے میں اب شوبز ستارے بھی عوام کی آواز میں آواز ملانے لگے ہیں۔
View this post on InstagramA post shared by Rania (@rania_official05)
نعمان اعجاز نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں طنزیہ انداز میں کہا کہ ایک عام شہری کبھی میٹر کو گھورتا ہے، کبھی سورج کو اور کبھی اپنے بچوں کو مگر کہیں سے کوئی ریلیف نظر نہیں آتا۔
انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ خدارا 200 یونٹس کے نظام کو ختم کریں، یہ ظلم ہے۔
نعمان اعجاز کی پوسٹ سے بہت سے صارفین نے ان کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے لکھا کہ وہ بھی ہر مہینے کے بل دیکھ کر ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ایک صارف نے لکھا کہ یہ 200 یونٹ کی حد صرف عوام کو پھنسانے کے لیے ہے، کوئی رعایت نہیں، صرف سزا۔
مزیدپڑھیں:متاثرہ بلڈنگ کے حوالے سے جوبھی ملوث ہوا اس کو سزا دی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔