’200 یونٹ والی بدمعاشی ختم کریں‘؛ نعمان اعجاز بجلی کے بڑھتے نرخوں پر برہم
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
معروف اداکار نعمان اعجاز نے حالیہ مہنگی بجلی اور یونٹس کے کھیل پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ 200 یونٹ والی بدمعاشی کو ختم کیا جائے۔
پاکستان میں بجلی کے نرخوں میں آئے دن ہونے والا اضافہ جہاں عام شہریوں کے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے، وہیں اب اس پر شوبز شخصیات بھی آواز اٹھانے لگی ہیں۔
ملک بھر میں گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی بجلی کی لوڈشیڈنگ اور اضافی نرخوں نے عوام کی مشکلات دوگنی کر دی ہیں۔ گھروں میں میٹر کی سوئیاں تیزی سے دوڑتی ہیں تو عوام کے دل کی دھڑکن بھی تیز ہو جاتی ہے، اور ہر بل کے ساتھ یہ سوال ذہن میں گونجتا ہے کہ آخر کب تک یہ سلسلہ چلے گا۔
اسی ماحول میں نیپرا نے حال ہی میں گھریلو صارفین کے لیے بجلی کے ٹیرف میں نئی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ نئے فیصلے کے مطابق ایک سے 100 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والوں کے لیے فی یونٹ قیمت 10 روپے 54 پیسے رکھی گئی ہے، جبکہ 101 سے 200 یونٹس پر یہ قیمت 13 روپے فی یونٹ ہوگی۔ اگر یونٹس کی حد 200 سے بڑھ جائے تو نان پروٹیکٹڈ صارفین کو فی یونٹ 22 روپے 44 پیسے جبکہ 201 سے زائد یونٹس پر 28 روپے 91 پیسے سے 47 روپے 69 پیسے تک فی یونٹ نرخ ادا کرنا ہوں گے۔
یہ اعداد و شمار کاغذ پر تو سیدھے دکھائی دیتے ہیں، لیکن عام آدمی کے لیے ان نرخوں کے ساتھ زندگی گزارنا آسان نہیں۔ نعمان اعجاز نے اس صورتحال پر سوشل میڈیا پر لکھا کہ گرمی میں ایک عام آدمی کبھی میٹر کی طرف دیکھتا ہے، کبھی سورج کی طرف اور کبھی اپنے بچوں کی طرف، لیکن کہیں سے بھی کوئی آسانی نظر نہیں آتی۔
انہوں نے حکومت سے اپیل کرتے ہوئے مزید لکھا کہ خدارا اس 200 یونٹس کے جال کو ختم کریں اور عوام پر رحم کریں۔ ان کے مطابق یہ بدمعاشی عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہے اور عام لوگ بجلی کے بلوں کے بوجھ تلے دب کر رہ گئے ہیں۔
View this post on InstagramA post shared by Rania (@rania_official05)
نیپرا کے مطابق ان نرخوں کا اطلاق حکومت کی منظوری کے بعد کیا جائے گا، تاہم عوام اور صارفین پہلے ہی مہنگی بجلی اور طویل لوڈشیڈنگ کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ نعمان اعجاز کی یہ پوسٹ کئی صارفین کی آواز بن گئی ہے، جو اپنے گھروں میں بھاری بلوں کا سامنا کرتے ہوئے اس شدید گرمی میں بجلی کی آنکھ مچولی سے لڑ رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بجلی کے فی یونٹ کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔